مسئلہ :
آج کل معیار ی اخبارات ورسائل میں” ستاروں کے کھیل “یا ”ستاروں کی دنیا “کے نام سے کالم جاری ہوتے ہیں ،جن میں غیبی حالات اور بھوشّیے بتلائے جاتے ہیں ،ہزاروں لوگ اس سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،بعض نجومی او رجوتشی لوگوں کے ہاتھ کی ریکھایعنی لکیر میں دیکھ کر بھوشّیے بتلا تے ہیں، یہ سب من گھڑت ،اٹکل اور بے بنیاد باتیں ہیں ،اور شرعاً حرام اور گناہ کبیرہ کا باعث ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :جوآدمی کاہن یا عرّاف کے پاس آکر کچھ پوچھے، اور اس کی بات پر یقین کرلے ،تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین و قرآن سے مکمل طور پر تہی دست رہ گیا ،اور اگر پوچھ لے اور یقین نہ بھی کرے ،تب بھی اس جرم کی نحوست سے چالیس دن تک اس کی کوئی نماز مقبول نہ ہوگی ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الجامع الصغیر في أحادیث البشیر النذیر للسیوطي “ : قوله علیه السلام : ” من أتیٰ کاهنا فصدقه بما یقول فقد بریٴ بما انزل علی محمد “ ۔
(۵۰۶/۲ ، رقم الحدیث : ۸۲۸۸)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : قوله ﷺ : ” من أتی عرافا فسأله عن شيء لم تقبل له صلوٰة أربعین لیلة “ ۔ (۲۳۳/۲ ، کتاب السلام ، باب تحریم الکهانة واتیان الکهان)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : قال رسول الله ﷺ : ” من أتی امرأته الحائض أوأتاها فی غیر ما أتاها أو أتی کاهنا فصدقه بما یقول فقد کفر بما أنزل الله علی محمد ﷺ ومراده إذا استحل ذلک الفعل “ ۔ (۱۵۲/۳ ، کتاب الحیض)
