مسئلہ:
بعض لوگ سفر سے اپنے وطن پہنچتے ہیں اور وطن میں نماز باجماعت ہوچکی ہوتی ہے، جب کہ نماز کا وقت باقی رہتا ہے، اور ان لوگوں کے ذمہ وقتیہ نماز باقی رہتی ہے، تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کو دو رکعت ہی پڑھنی ہے، جب کہ ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ دو یا چار رکعت کے وجوب میں آخری وقت کا اعتبار ہوتا ہے، اور آخری وقت یہ لوگ مقیم ہیں، لہذا انہیں نماز پوری پڑھنی ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” البحر الرائق “ : (والمعتبر فیه آخر الوقت) أي المعتبر في وجوب الأربع أو الرکعتین عند عدم الأداء فی الوقت الجزء الأخیر من الوقت وهو قدر ما یسع التحریمة، فإن کان فیه مقیماً وجب علیه أربع وإلا کان مسافراً فرکعتان لأنه المعتبر فی السببیة عند عدم الأداء فی أول الوقت إن أدی آخره۔ (۲۴۲/۲، کتاب الصلاة، باب المسافر)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : والمعبتر فی آخره مسافراً وجب رکعتان وإلا فأربع لأنه المعتبر فی السببیة عند عدم الأداء قبله ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی تحت قوله: (وإلا فأربع) أی وإن لم یکن فی آخره مسافراً بأن کان مقیماً فی آخره فالواجب أربع، قال فی النحر: وعلی هذا قالوا: لو صلی الظهر أربعاً ثم سافر أی فی الوقت فصلی العصر رکعتین ثم رجع إلی منزله لحاجة فتبین أنه صلاهما بلا وضوء صلی الظهر رکعتین والعصر أربعاً، لأنه کان مسافراً فی آخر وقت الظهر ومقیماً فی العصر۔
(۶۱۳/۲، کتاب الصلوٰة، باب صلوٰة المسافر، قبیل مطلب فی الوطن الأصلی الخ، بیروت)
ما فی ” حاشیة الطحطاوي علی مراقی الفلاح “ : (والمعتبر فیه) أی لزوم الأربع بالحضر والرکعتین بالسفر (آخر الوقت) فإن کان فی آخره مسافراً صلی رکعتین وإن کان مقیماً صلی أربعاً لأنه المعتبر فی السببیة عند عدم الأداء فیما قبله من الوقت فتلزمه الصلوٰة لو صار أهلاً لها فی آخر الوقت ، قال الطحطاوی تحت قوله: (آخر الوقت) أی بقدر ما یسع إیقاع التحریمة فیه۔(ص:۴۲۸، کتاب الصلوٰة، باب صلوٰة المسافر، بدائع الصنائع:۲۶۲/۱، کتاب الصلوٰة)
