مسئلہ:
بعض لوگ اذان کے فوراً بعد مسجد آجاتے ہیں، جو یقینا بڑی اچھی بات ہے، لیکن وہ سنت سے فارغ ہوکر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے بیٹھتے ہیں، اس سے پڑھی ہوئی سنتیں باطل تو نہیں ہوتیں کہ ان کا اعادہ لازم ہو، مگر ثواب باطل ہوجاتا ہے، اس لیے سنتوں کے ثواب کو بچانے کے لیے خاموش بیٹھے رہنا ، یا ذکر وتسبیح اور تلاوت میں ہی مشغول رہنا چاہیے، ورنہ ثواب باطل ہوجائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” فتاوی ابن نجیم الحنفي “ : سئل عمن یتکلم بین السنة وبین الفرض هل تبطل السنة ویلزمه إعادتها؟ أجاب: لا تبطل، ولکن یبطل ثوابها ولا یلزمه إعادتها۔
(ص:۹، کتاب الصلاة)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : ولو تکلم بین السنة والفرض لا یسقطها ولکن ینقص ثوابها وقیل: تسقط۔ (۴۲۱/۲، باب الوتر والنوافل، مطلب في تحیة المسجد)
(فتاویٰ رحیمیه:۱۳۶/۵)
