مسئلہ:
آج کل ایک سنت علاج ”حَجامہ“ یعنی پچھنا لگوانا – جو جانور کے سینگ کے بجائے پلاسٹک کا کپ لگاکر کیا جارہا ہے، اور اس کو منہ کے بجائے کپ سے کھینچا جاتا ہے، جس کی وجہ سے گندا خون کپ میں آجاتا ہے، یہ چائنا والوں کا قومی علاج بھی ہے، بعض لوگ اس جدید طریقہٴ حجامت کو اس لیے سنت نہیں کہتے کہ اس میں جانور کے سینگ سے خون کو نہیں کھینچا جاتا، اُن کی یہ بات غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ حجامہ سے مقصود فاسد خون نکلوانا ہے، جو اس جدید طریقہٴ حجامت سے بھی حاصل ہوجاتا ہے، لہٰذا سنت کی نیت سے اس جدید طریقہ سے حجامہ کروایا جاسکتا ہے، اور اس سے سنت بھی ادا ہوجائے گی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أنس قال: ” کان رسول الله ﷺ یحتجم في الأخدعین والکاهل“۔ رواه أبو داود وزاد الترمذي وابن ماجة۔
(ص:۳۸۹، کتاب الطب والرقی، الفصل الثاني، رقم:۴۵۴۶)
وفیه أیضًا : عن أبي کبشة الأنماري: أن رسول الله ﷺ کان یحتجم علی هامته وبین کتفیه، وهو یقول: ” من أهراق من هذه الدماء فلا یضره أن لا یتداوی بشيء لشيء “ ۔ رواه أبو داود وابن ماجة۔
(ص:۳۸۹، کتاب الطب والرقی، الفصل الثاني، رقم:۴۵۴۲، سنن أبی داود:ص/۵۳۹، کتاب الطب، باب في موضع الحجامة، رقم:۳۸۵۹، جامع الترمذی:۲۵/۲، کتاب الطب، باب ما جاء في الحجامة، رقم:۲۰۵۱)
(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۱۶۲۷۸)
