سننِ غیر موٴکدہ ، نفل و مستحب کو ضروری سمجھنا!

(فتویٰ نمبر:۵)

سوال:

سننِ غیر موٴکدہ، نفل، مندوب اور مستحب یا تطوع عبادت کو ثواب کی نیت سے ضروری سمجھنا اور اس پر ہمیشگی کرنا کیا شریعتِ مطہرہ میں بدعت اور ناجائز ہے؟ جب کہ احادیثِ مبارکہ میں اس بات کی بشارت دی گئی ہے کہ آخرت میں حساب وکتاب کے وقت فرائض عبادت کی کمی کو نوافل کے ذریعہ پورا کیا جائے گا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

سننِ غیر موٴکدہ ، نفل اور مستحب وغیرہ کو تحصیلِ ثواب کی نیت سے ضروری سمجھنا (نہ کہ باعتقادِ فرضیت) اور اس پر مداومت وہمیشگی کرنا بدعت نہیں ہے، کیوں کہ شرعاً بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جس پر شارع نے ثواب نہ بتایا ہو اور کرنے والا اسے ثواب سمجھ کر کر رہا ہو، جب کہ سننِ غیر موٴکدہ،نفل اور مستحب وغیرہ پر ثواب کا مرتب ہونا احادیث سے ثابت ہے، اس لیے ان پر بدعت کی تعریف صادق نہیں آتی۔(فتاویٰ محمودیہ: ۲۶/۳)

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن عائشة – رضي اللّٰه عنها – قالت : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من أحدث في أمرنا هذا ما لیس منه فهو رد “ ۔۔۔۔۔وفیه أیضًا : عن عائشة رضي اللّٰه عنها أن رسول اللّٰه ﷺ قال : ” من عمل عملا لیس علیه أمرنا فهو رد “ ۔(۷۷/۲ ، کتاب الأقضیة ، باب نقض الأحکام الباطلة وردّ محدثات الأمور)

ما في ”مرقاة المفاتیح “: قال النووي : البدعة کل شيء عمل علی غیر مثال سبق ، وفي الشرع : إحداث ما لم یکن في عهد رسول اللّٰه ﷺ ۔

(۳۳۷/۱ ، کتاب الإیمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۸/۱۱/۸ھ  

اوپر تک سکرول کریں۔