(فتویٰ نمبر: ۲۴۴)
سوال:
بسم اللہ بی کا انتقال ہوا، اس نے اپنے ورثا میں شوہر اور ایک بیٹے یونس کو چھوڑا، بعدہ یونس کا انتقال ہوا ، اس نے اپنے پس ماندگان میں اپنے والد اور چار سوتیلے بھائی چھوڑے، یونس کے خالہ زاد بھائی ماسٹر بشیر کا کہنا ہے کہ یونس کے والد کے انتقال کے بعد جو جائداد یونس کے پاس سے اس کے والد کو منتقل ہوئی،والد کے انتقال کے بعد ہم اس کے وارث ہوں گے، نہ کہ یونس کے سوتیلے بھائی، تو کیا ان کا یہ کہنا اور وراثت کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
بسم اللہ بی کی کل جائداد چار حصوں میں تقسیم ہو کر، ایک حصہ اس کے شوہر یعنی یونس کے والد کو ،اور تین حصے اس کے بیٹے یونس کو ملیں گے۔(۱)
یونس کے انتقال کے بعد اس کی کل جائداد کا حق دار اس کا باپ ہوگا، اس کے سوتیلے بھائیوں کو یونس کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا(۲)، اور یونس کے والد کے انتقال کے بعد اس کی کل جائداد اس کے چار بیٹوں یعنی یونس کے سوتیلے بھائیوں کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسم ہوگی، یونس کے خالہ زاد بھائی ماسٹر بشیر احمد کا وراثت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَّهنَّ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَهنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مما تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوْصِیْنَ بِها أَوْ دَیْنٍ﴾۔
(سورة النساء : ۱۲)
ما في ” السراجي في المیراث “ : أما للزوج فحالتان : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والربع مع الولد أو ولد الإبن وإن سفل ۔ (ص/۱۱)
ما في ” السراجي في المیراث “ : فیبدأ بأصحاب الفرائض ، وهم الذین لهم سهام مقدرة في کتاب اللّٰه تعالی ، ثم بالعصبات من جهة النسب ، والعصبة کل من یأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض ، وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ (ص/۵)
ما في ” السراجي في المیراث “ : العصبات النسبیة ثلاثة : عصبة بنفسه ، وعصبة بغیره ، وعصبة مع غیره، أما العصبة بنفسه فکل ذکر لا تدخل في نسبته إلی المیت أنثیٰ ، وهم أربعة أصناف : جزء المیت وأصله ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؛ أي البنون ، ثم بنوهم وإن سفلوا ، ثم أصله أي الأب ، ثم الجد أي أب الأب ۔ (ص/۲۱ ،۲۲)
(۲) ما في ” السراجي في المیراث “ : أما الأب فله أحوال ثلاث : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والتعصیب المحض ، وذلک عند عدم الولد وولد الإبن وإن سفل ۔ (ص/۱۰ ، ۱۱)
ما في ” السراجي في المیراث “ : وبنوا الأعیان والعلات کلهم یسقطون بالإبن وابن الإبن وإن سفلوا وبالأب بالاتفاق ۔ (ص/۱۷)
(۳) ما في ” السراجي في المیراث “ : والعصبات النسبیة ثلاثة : عصبة بنفسه، وعصبة بغیره، وعصبة مع غیره، أما العصبة بنفسه فکل ذکر لا تدخل في نسبته إلی المیت أنثیٰ، وهم أربعة أصناف: جزء المیت أي البنون، ثم بنوهم وإن سفلوا۔ (ص/۲۱ ، ۲۲) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۷/۱۵ھ
