مسئلہ:
جس طرخ خود سود لینا ، یا شدید ضرورت کے بغیر سود دینا حرام ہے، اسی طرح سودی معاملات میں تعاون کرنا بھی جائز نہیں ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اُن تمام لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، جو سودی کاروبار کو لکھنے اور اس پر گواہ بننے ، یا اس میں واسطہ بننے کے اعتبار سے معاون ہوں(۱)، اس لیے سودی قرض فراہم کرنے والے اداروں یا افراد کو اپنی دکانوں یا کامپلیکس میں کرایہ پر جگہ فراہم کرنا، سودی معاملہ میں تعاون کرنا ہے، جو جائز نہیں ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر قال: ” لعن رسول الله ﷺ آکل الربا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء “۔
(۲۷/۲، کتاب المساقاة والمزارعة، باب لعن آکل الربا وموکله، رقم الحدیث:۱۵۹۸، جامع الترمذي:۲۲۹/۱، أبواب البیوع، باب ما جاء في آکل الربوا، رقم الحدیث:۱۲۰۶)
ما في ” المنهاج شرح مسلم بن الحجاج “ : هذا تصریح بتحریم کتابة المبایعة بین المتراببین والشهادة علیهما، وفیه تحریم الإعانة علی الباطل۔والله اعلم۔(۱۰۷/۶،رقم الحدیث:۱۵۹۸)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾۔ (المائدة:۲)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : وقوله تعالی: ﴿ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾۔ نهی عن معاونة غیرنا علی معاصي الله تعالی۔
(۳۸۱/۲، مطلب کل ما أباحه الله تعالی للموٴمنین الخ)
