سونے کے پرزے والی گھڑی کا استعمال

مسئلہ:

” راڈو“ گھڑی جس میں سونے کے پرزے لگے ہوتے ہیں، اسی طرح اور کوئی گھڑی جس میں ” پلاٹینم گولڈ“ – جو کہ سونے سے بھی دُگنی قیمت کا دھات ہے-کا استعمال درست ہے، کیوں کہ یہ براہِ راست سونے کا استعمال نہیں ہے، بلکہ گھڑی کے تابع ہے، اس لیے جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا یکره لبس ثیاب کتب علیها بالفضة والذهب، وکذلک استعمال کل مموّه لأنه إذا ذوّب لم یخلص منه شيء ۔۔۔ الخ ۔

(۳۳۴/۵، کتاب الکراهیة، الباب العاشر في استعمال الذهب والفضة، ط: رشیدیه وزکریا)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي التاترخانیة عن السیر الکبیر: لا بأس بأزرار الدیباج والذهب وفیها عن مختصر الطحاوي: لا یکره عَلم الثوب من الفضة، ویکره من الذهب، قالوا: وهذا مشکل، فقد رخص الشُریح في الکفاف، والکفاف قد یکون من الذهب ۔ اه ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: أقول: الظاهر أن وجه الاستشکال أن کلا من العَلم والکفاف في الثوب إنما حل لکونه قلیلا وتابعًا غیر مقصود کما صرحوا به، وقد استوی کل من الذهب والفضة والحریر في الحرمة، فترخیص العلم والکفاف من الحریر ترخیص لهما من غیره أیضًا بدلالة المساواة، ویوٴید عدم الفرق ما مرّ من إباحة الثوب المنسوج من ذهب أربعة أصابع۔

(۵۱۱/۹، الحظر والإباحة، فصل في اللبس، بیروت)

(آپ کے مسائل اور ان کا حل:۳۷۸/۸، تخریج شدہ)

اوپر تک سکرول کریں۔