(فتویٰ نمبر: ۱۴)
سوال:
کالے خضاب کا کیا حکم ہے؟ زید ایک عالم باعمل شخص ہے وہ کہتا ہے کہ پہلے جتنی کالی خضاب بنتی تھی، اس کو لگانے سے بالوں کے اوپر کور کو ٹنگ (Cover Coating)کی طرح پرت جم جاتی تھی،جو بالوں میں پانی جانے کے لیے مانع ہوتی تھی، مگر اب جتنی ڈائیاں (Dyes) نکلتی ہیں وہ بالوں کے اندر صرف تبدیلی کرتی ہے، اسی لیے علمائے ندوہ اور علمائے مصر کے نزدیک بلا کراہت جائز ہے،جب کہ مبسوط سرخسی میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کا قول درج ہے کہ”میرے نزدیک کسی کی بیوی اگر کالے خضاب لگانے سے خوش رہتی ہے، تو وہ دو رکعت نفل نماز سے بھی بہتر ہے “؛ اس لیے اس کا حکم بھی شرعاً واضح فرمائیں !
الجواب وباللہ التوفیق:
سرخ خضاب بالاتفاق جائزبل کہ مستحب ہے،اور سیاہ خضاب جہاد میں دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے جائز ہے اور محض زینت کے واسطے مکروہِ تحریمی ہے۔(۱)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”کچھ لوگ آخری زمانے میں ایسے ہوں گے جو کبوتروں کے سینوں کی طرح سیاہ خضاب کریں گے، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پاسکیں گے “۔(۲)
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ”بذل المجہود“ میں سیاہ خضاب کو مکروہِ تحریمی قرار دیتے ہیں۔(۳)
حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ کالے خضاب کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:”سیاہ خضاب جہاد میں ہیبتِ دشمن کے لیے جائز ہے،محض زینت کے واسطے مختلف فیہ ہے، عام مشائخ کا قول کراہت ہے “۔(امداد الفتاویٰ: ۲۱۳/۴)
حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب رحمہ اللہ کالے خضاب سے متعلق فرماتے ہیں: ”قدرتی کالے رنگ کا خضاب حرام ہے، حدیث شریف میں اس پر وعید آئی ہے“۔(نظام الفتاویٰ: ۱/ ۳۵۳)
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے سیاہ خضاب بھی کیا،تو در اصل وہ حالتِ جہاد میں تھے،یا پھر وہ خالص سیاہ نہ تھا بلکہ سرخ مائل بہ سیاہی،یا سبز مائل بہ سیاہی تھا،ورنہ نبی علیہ الصلوة والسلام کی صریح وشدیدممانعت کی خلاف ورزی صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کیسے کرسکتے ہیں۔(نوادر الفقہ: ۲/ ۳۶۲)
رہا امام ابویوسف رحمہ اللہ کا یہ قول کہ”میرے نزدیک کسی کی بیوی اگر کالا خضاب لگانے سے خوش رہتی ہے، تو دورکعت نفل نماز سے بھی بہتر ہے“ کو ہم نے” مبسوط سرخسی“ میں تلاش کیا، تو صرف یہ عبارت ملی: ”اور بہرحال جو شخص اپنی بیویوں اور باندیوں کے لیے زینت کی خاطر (سیاہ) خضاب کرے، تو بعض علما نے اس کو منع فرمایا ہے، اور صحیح یہی ہے کہ اس میں کو ئی حرج نہیں ہے، اور یہ قول حضرت امام ابویوسف رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:”جیسے مجھے یہ پسند ہے کہ وہ (بیوی) میرے لیے زینت اختیار کرے، اسی طرح اسے (بیوی کو) بھی یہ پسند ہوگا کہ میں اس کے لیے زینت اختیار کروں۔“ ” وأما من اختضب لأجل التزین للنساء والجواري ، فقد منع ذلک بعض العلماء رحمہم اللّٰہ تعالی ، والأصح أنہ لا بأس بہ ، وہو مروي عن أبي یوسف ، قال : کما یعجبني أن تتزین لي یعجبہا أن أتزین لہا “ ۔ (۱۹۹/۱۰)
لہٰذا آپ کی طرف سوال میں مذکور قول کی نسبت صحیح نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : اتفق المشایخ أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وأنه من سیماء المسلمین وعلاماتهم ، وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلک من الغزاة لیکون أهیب في عین العدو فهو محمود منه ، اتفق علیه المشایخ رحمهم اللّٰه تعالی ، ومن فعل ذلک لیزین نفسه للنساء ولیحبب نفسه إلیهن ، فذلک مکروه، وعلیه عامة المشایخ۔
(۳۵۹/۵)
(۲) ما في ” السنن لأبي داود “ : (قال رسول اللّٰه ﷺ) : ” یکون قوم في آخر الزمان یخضبون هذا السواد کحواصل الحمام لا یریحون رائحة الجنة “ ۔ (ص/۵۷۸)
(۳) ما في ” بذل المجهود “ : وفي الحدیث تهدید شدید في خضاب الشعر بالسواد، وهو مکروه کراهة تحریم ۔ (۲۳۸/۱۲) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۸/۱۲/۶ھ
