سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ لے کر فرسٹ کلاس میں سفر

مسئلہ:

بعض لوگ سفر کرنے کے لیے ریلوے کا سیکنڈ کلاس (SECOND CLASS) ٹکٹ لیتے ہیں، اور سیکنڈ کلاس میں بھیڑ ہونے کی وجہ سے فرسٹ کلاس (FIRST CLASS) میں سفر کرتے ہیں، ایسا کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ حکومت کی طرف سے سیکنڈ کلاس کے ٹکٹ کی جو منفعت متعین ہے، ٹکٹ کا خریدار (مستاجر) اسی منفعتِ متعینہ کا حق دار ہے، اگر اس سے زائد منفعت اٹھا تا ہے، تو وہ اس زائد منفعت کی قیمت کا ضامن ہوگا، اس لیے کہ سیکنڈ کلاس کے ٹکٹ کی بہ نسبت فرسٹ کلاس ٹکٹ کی مالیت زیادہ ہوتی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مختصر القدوري “ : ویجوز استیجار الدوابّ للرکوب والحمل، فإن أطلق الرکوب جاز له أن یرکبها من شاء، وکذلک إن استأجر ثوباً للبس وأطلق، فإن قال له علی أن یرکبها فلان أو یلبس الثوب فلان فأرکبها غیره، أو ألبسه غیره کان ضامناً۔ (ص:۱۰۱، کتاب الإجارة)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : یتفق الفقهاء علی أن المستأجر یلزمه أن یتبع في استعمال العین ما أعدت له مع التقیّد بما شرط في العقد، أو بما هو متعارف إذا لم یوجد شرط، وله أن یستوفي المنفعة المعقود علیها، أو ما دونها من ناحیة استهلاک العین والانتفاع علیها، ولیس له أن ینتفع منها بأکثر مما هو متفق علیه ، فإذا استأجر الدابة لرکوبه الخاصّ فلیس له أن یتخذها لغیر ذلک۔(۲۷۰/۱، الإجارة، استعمال العین حسب الشرط أو العرف، المهذب للشیرازي:۴۰۲/۱۔ ۴۰۳، مطبعة عیسی الحلبي)

ما في ” البحر الرائق “ : (وإن سمّی نوعاً وقدراً ککرّ بُرّ له حمل مثله وأخفّ لا آخر کالملح) ۔ کنز ۔ قال ابن نجیم: الأصل أن من استحق منفعة مقررة بالعقد فاستوفی تلک المنفعة أو مثلها أو أقل منها جاز، وإن استوفی أکثر منها لم یجز۔ (۵۲۴/۷، کتاب الإجارة، باب ما یجوز من الإجارة وما یکون خلافاً فیها، هدایه:۲۹۹/۳، کتاب الإجارة)

اوپر تک سکرول کریں۔