مسئلہ:
شادی بیاہ کے موقع پر جہاں بہت ساری رسومات کو دل وجان سے اَپنایا جاتا ہے، ان ہی میں سے ایک رسم ”جوتا چھپائی“ ہے، دولہا جب گھر جاتا ہے، تو سالیاں اس کا جوتا چھپاکر، جوتاچھپائی کے نام سے ایک رقم لیتی ہیں، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:” شاباش! ایک تو چوری کریں اور اُلٹا انعام پائیں، اول تو ایسی مہمل ہنسی کہ کسی کی چیز اُٹھائی – چھپادی- حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے(۱)، پھر یہ کہ ہنسی دل لگی کا خاصہ ہے کہ اس سے ایک بے تکلفی بڑھتی ہے، بھلا اجنبی مرد سے ایسا تعلق وارتباط پیدا کرنا خود شرع کے خلاف ہے(۲)، پھر اس انعام کو حقِ لازمی سمجھنا بھی جبر فی التبرّع وتعدّیٴ حدود ہے، اس لیے اِس رسم سے پوری احتیاط برتنی چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” السنن لأبي داود “ : عن عبد الله بن السائب بن یزیدَ، عن أبیه، عن جدّه أنه سمع النبي ﷺ یقول: ” لا یأخُذَنَّ أحَدُکُمْ مَتاعَ أخیه لاعِبًا جَادًّا “۔ وقال سلیمان: ” لَعِباً ولا جِدًّا، ومَنْ أخَذَ عَصَا أخِیْه فَلْیَرُدَّها “۔
(ص:۶۸۳، کتاب الأدب، عون المعبود: ص/۲۱۴۶، رقم الحدیث: ۵۰۰۳، باب من یأخذ الشيء من مزاح، وأخرجه الترمذي: ۳۹/۲، أبواب الفتن، باب ما جاء لا یحل لمسلم أن یروّع مسلماً)
ما في ” عون المعبود “ : (لاعباً جادًا) : قال الخطابي: معناه أن یأخذه علی وجه الهزل وسبیل المزاح ثم یحبسه عنه ولا یرده، فیصیر ذلک جداً۔ (قال سلیمان): ۔۔۔۔ (لعبًا ولا جداً): وجه النهي عن الأخذ جداً ظاهر لأنه سرقة، وأما النهي عن الأخذ لعباً فلأنه لا فائدة فیه بل قد یکون سبباً لإدخال الغیظ والأذی علی صاحب المتاع۔
(ص:۲۱۴۶۔۲۱۴۷، بیت الأفکار الدولیة، الأردن، معالم السنن للخطابي: ۱۲۶/۴، رقم الحدیث: ۱۳۶۹، کتاب الأدب، باب في المزاح، بیروت)
(۲) ما في ” السنن لأبي داود “ : عن ابن عمر: ” نهی النبي ﷺ أن یمشي الرجل بین المرأتین“۔ (۷۱۵/۲، کتاب الأدب، باب في مشي النساء في الطریق)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : قال النووي: نظر الرجل إلی المرأة الأجنبیة حرام من کل شيء من یدفعها، وکذلک نظر المرأة إلی الرجل، سواء کان بشهوة أو بغیرها۔
(۲۵۲/۶، باب النظر إلی المخطوبة، شرح الطیبي: ۲۵۲/۶، البحرالرائق: ۳۵۲/۸۔۳۵۶، کتاب الکراهیة، فصل في النظر واللمس، الفتاوی الهندیة: ۳۲۸/۵، الباب الثامن فیما یحلّ للرجل النظر إلیه)
(اصلاح الرسوم:ص/۸۱۔۸۲، عروش پبلی کیشنز دیوبند)
