مسئلہ:
مجلسِ عقد میں شرکت کی دعوت آپ ﷺ سے ثابت ہے، آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کے نکاح کے وقت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کبارِ صحابہ، مثلاً حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرات انصار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ایک جماعت کے پاس بھیج کر ، انہیں مجلس عقد میں دعوتِ شرکت دی تھی(۱)، اس لیے مجلس عقد میں دعوت شرکت دینے کیلئے شادی کارڈ کا چھپوانا جائز ہے،بشرطیکہ وہ اِسراف وفضول خرچی کی حد میں داخل نہ ہو(۲)، جیسا کہ آج کل اس میں بڑے اِسراف سے کام لیا جاتا ہے، کہ ایک ایک دعوت نامہ پچاس پچاس، یا سو سو روپئے، یا اس سے بھی زائد کا ہوتا ہے، جب کہ اس کا مقصد صرف نکاح کی دعوت دینا ہوتا ہے، اور جسے وہ دیا جاتا ہے، وہ بھی اسے اپنے سر آنکھوں پر نہیں رکھتا بلکہ لاپرواہی سے ڈالدیتا ہے، کہ وہ کسی کام میں آبھی نہیں سکتا، اس اعتبار سے یہ اضاعتِ مال میں داخل ہے ، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ کے مقاصد میں سے ایک عظیم مقصد حفاظتِ مال بھی ہے(۳)، یہی وجہ ہے کہ اس نے مال کو ضائع کرنے اور بے جا خرچ کرنے سے منع فرمایا ہے، امید کہ اس سے پرہیز کیا جائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” شرح الزرقاني مع المواهب اللدنیة “ : عن أنس رضی الله تعالی عنه، خطبها علي بعد أن خطبها أبو بکر ثم عمر، قال أنس: ثم دعاني علیه الصلوٰة والسلام بعد أیام فقال: أدع لي أبا بکر وعمر وعثمان وعبد الرحمن بن عوف، وعدة من الأنصار جماعة بینهم له۔ (۲/۲۔۳)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿کلوا واشربوا ولا تسرفوا، إنه لا یحب المسرفین﴾ ۔(سورة الأعراف:۳۱)
ما فی ” أحکام القرآن لإبن العربی “ : الإسراف تعدی الحد، فنهاهم عن تعدی الحلال إلی الحرام، وقیل ألا یزیدوا علی قدر الحاجة۔ (۷۸۱/۲)
ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تبذر تبذیراً ، إن المبذرین کانوا إخوان الشیٰطین﴾ ۔(سورة الإسراء: ۲۷/۲۶)
ما فی ” التفسیر الکبیر للرازی “ : والتبذیر فی اللغة: إفساد المال وانفاقه فی السرف۔ (۳۲۸/۷)
ما فی ” صحیح البخاری “ : عن المغیرة بن شعبة قال: قال النبی ﷺ: ” إن الله حرم علیکم عقوق الأمهات، ووأد البنات، ومنع وهات، وکره لکم قیل وقال، وکثرة السوال، وإضاعة المال “۔ (۳۲۴/۱، رقم الحدیث: ۲۴۰۸، کتاب فی الاستقراض)
ما فی ” فتح الباری “ : قوله : (وإضاعة المال) وقد قال الجمهور: إن المراد به السرف فی إنفاقه۔(۸۶/۵)
(۳) ما فی ” الموافقات فی أصول الأحکام للإمام الشاطبی“ : ومجموع الضروریات خمسة، وهی حفظ الدین والنفس والنسل والمال والعقل۔
(۴/۲، کتاب المقاصد، المسئلة الأولی)
(فتاوی محمودیه: ۳۸۹/۱۷)
