مسئلہ:
بسا اوقات ماں باپ شادی سے پہلے اپنی بچی کیلئے زیورات بناکر رکھتے ہیں ، اگر وہ زیورات لڑکی کی ملک کر دیئے گئے ہیں، اورلڑکی نابالغ ہے تو اس کی زکوٰة نہ لڑکی پر واجب ہے اور نہ والدین پر، لڑکی پر اس لئے نہیں کہ وہ بالغہ نہیں ہے، جب کہ وجوب زکوٰة کیلئے بلوغت شرط ہے، اور والدین پر اس لئے نہیں کہ یہ زیورات ان کے قبضے میں تو ہیں لیکن ملکیت میں نہیں، ہاں بالغ ہونے کے بعد لڑکی پر اس کی زکوٰة فرض ہوگی، بشرطیکہ وہ نصاب کے برابر ہوں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وشرط إفتراضها عقل وبلوغ فلا تجب علی مجنون وصبی لأنها عبادة محضة ولیسا مخاطبین بها، وسببه أی سبب افتراضها (ملک نصاب حولی)۔(۱۷۳/۳۔۱۷۴، کتاب الزکاة)
ما فی ” البحر الرائق “ : وشرط وجوبها العقل والبلوغ والإسلام والحریة وملک نصاب حولی۔(۳۵۳/۲۔۳۵۴، کتاب الزکاة)
ما فی ” الهدایة “ : الزکوٰة واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً مُلکاً تاماً، وحال علیه الحول۔
(۱۱۷/۱ ، کتاب الزکاة، دار الأرقم بیروت، التاتارخانیة: ۳/۲، کتاب الزکاة)
(فتاوی محمودیه: ۸۲/۱۴)
