مسئلہ:
شادی کے موقعہ پر چھوہارے، مصری ،اخروٹ وغیرہ لٹانا سنت ہے نہ کہ ان کو تقسیم کرنا(۱) ،اگر یہ عمل مسجد میں ہو تو مسجد کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہونا چاہئے، کیونکہ احترامِ مسجد واجب ہے۔(۲)
چھوہارے وغیرہ لٹاتے وقت اگر وہ کسی کی گودیا آستین میں گرے تووہی اس کا مالک ہے کسی اور کواس کی گود سے لینا جائز نہیں ہے،بشرطیکہ اس نے دامن یا آستین کو اس لئے پھیلا یا ہو اور اگر دامن یا آستین کو اس لئے نہیں پھیلایا تو دوسرے کے لئے لینا جائز ہے، اور اگر کسی کے سر پر گرے تو دوسرے شخص کو لینا جائز ہے اور اگرکسی نے چھوارے کو ہاتھ میں لے لیا اور پھر اس کے ہاتھ سے گرگیا اور دوسرے شخص نے اسے لے لیا تویہ اس کے لئے جائز نہیں،بلکہ پہلا شخص ہی اس کا مستحق ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا
(۱) ما في ’’إعلاء السنن‘‘: عن معاذ بن جبل رضي الله عنه أن النبي ﷺ حضر في أملاک (أي نکاح) فأتي بطباق علیها جوز ولوز وثمر فنثرت فقبضنا أیدینا، فقال : ما بالکم لا تأخذون ؟ فقالوا: لأنک نهیت عن النهبیٰ، فقال : ’’ ما نهیتکم عن نهبی العساکر خذوا علی إسم الله فجازینا وجازیناه ‘‘۔ ( ۱۷/۱۱ ،کتاب النکاح باب جوازالولیمة)
(۲) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا} ۔ (سورة الجن :۱۸)
ما في ’’الجامع لأحکام القرآن للقرطبي‘‘: أفردوا المساجد لذکر الله ولا تتخذوها هزواً ومتجراً و مجلساً و لا طرقاً ولا تجعلوا لغیرها فیها نصیباً ۔ (۲۲/۱۹)
ما في ’’موسوعة القواعد الفقهیة ‘‘: بقاعدة فقهیة :’’ الواجب لا یترک لسنة ‘‘ ۔ (۱۳۸/۱۲)
(۳) وما في ’’الملتقط في فتاویٰ الحنفیة ‘‘: وإذا وضع سکرا بین یدي قوم وقال: خذوه فمن أخذه فهو له وإن نثر السکر أوالدراهم أواللوز فوقع من حجر رجل أو کمه فهو له، وإن وقع علی رأسه فأخذه آخر جاز وإن أخذه رجل فسقط من یده فأخذه آخر فهو للأول۔(ص۳۱۰،کتاب الهبة والصدقة، فتاوی حقانیه:۳۲۱/۳، خیرالفتاوی:۵۸۵/۴)
ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘: ولا بأس بنثر السکر والدراهم في الضیافة وعقد النکاح کذا في السراجیة ۔ (۳۴۵/۵ ،کتاب الکراھیة ، الباب الثالث عشر في النھبة و نثر الدراھم)
ما فی ’’الفتاوی الهندیة‘‘: قال: إن کان بسط ذیله أوکمه لیقع علیه السکر لا یکون لأحد أخذه ولو أخذه کان لصاحب الذیل والکم أن یسترده منه ۔ وإن لم یبسط ذیله أوکمه لذلک فالسکر للآخذ ولیس لصاحب الذیل والکم أن یسترده منه کذا في المحیط۔
(۳۴۵/۵،۳۴۶،کتاب الکراھیة ، المحیط البرھاني: ۹۳/۶،کتاب الاستحسان والکراھیة، الفصل الثالث عشر في النھبة ونثر الدراھم)
