شادی گھر والوں کا آم یا جامن کے پتوں کا منڈپ ڈالنا

مسئلہ:

بعض علاقوں میں شادی کے موقع پر دولہا دلہن کے گھر اور منڈپ پر آم وغیرہ کے پتے ڈالے جاتے ہیں ، جس کو ہرا منڈپ کہا جاتا ہے، اسی طرح گھر کے کسی کونے میں مٹی کھود کر وہاں مٹکے رکھ کروہاں گیہوں وغیرہ ڈالے جاتے ہیں ، جس کو بیل مٹکی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، اسی طرح ہلدی کا رنگ دیئے ہوئے چاول کپڑے میں باندھ کر دولہا اور دلہن کے ہاتھ پر باندھا جاتا ہے ، جن کو کَنگنا کہا جاتا ہے، یہ سب رسمیں مجموعہ بدعات وخرافات ، غلط وبے بنیاد ، ہندوانہ طرز ہیں ، اس لیے ان تمام چیزوں کا ترک واجب او رلازم ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’القرآن الکریم‘‘: {ولا ترکنوا إلی الذین ظلموا فتمسکم النار} ۔(سورة الهود:۱۱۳)

ما في ’’الجامع لأحکام القرآن للقرطبي‘‘: قال قتادة : معناه لا تؤدوهم ولا تطیعوهم وقال ابن جریج : لا تمیلوا إلیهم ، وقال أبو العالیة : لا ترضوا بأعمالهم  ۔ (۱۰۸/۹)

ما في ’’الصحیح البخاري‘‘: ’’أبغض الناس إلی الله ثلاثة: ملحد في الحرم ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة ، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیهریق دمه‘‘ ۔ (۱۰۱۶/۲)

ما في ’’فتح الباري شرح صحیح البخاری لإبن حجر العسقلانی:قوله: ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة۔ قیل المراد من یرید بقاء سیرة الجاهلیة أو إشاعتها أو تنفیذها ۔

(۲۶۲/۱۲، رقم الحدیث: ۶۸۸۲)

اوپر تک سکرول کریں۔