مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ شریعت کے اوامر ونواہی میں فرض،واجب، سنت، مستحب اور حرام ومکروہِ تحریمی سے فرق کیوں کیا جاتاہے؟ … تو جواباً عرض ہے کہ دلائلِ شرعیہ کی چار قسمیں ہیں:
۱۔۔۔۔۔ جس دلیل کا ثبوت اور مفہوم ومدلول قطعی ہو، اسے قطعی الثبوت والدلالة کہتے ہیں، جیسے قرآن کریم کی آیاتِ مفسرہ ومحکمہ اور وہ سنت ِمتواترہ جن کا مفہوم قطعی ہو۔
۲۔۔۔۔۔ جس دلیل کا ثبوت تو قطعی ہے ، مگر اس کا مفہوم ومدلول ظنی ہو، اسے قطعی الثبوت ظنی الدلالة کہتے ہیں، جیسے قرآن کریم کی وہ آیات جن میں تاویل کی گئی۔
۳۔۔۔۔۔ جس دلیل کا ثبوت ظنی ہو اور مفہوم ومدلول قطعی ہو، اسے ظنی الثبوت قطعی الدلالة کہتے ہیں، جیسے وہ اخبار وآحاد جن کا مفہوم قطعی ہو۔
۴۔۔۔۔۔ جس دلیل کا ثبوت اور مفہوم ومدلول دونوں ظنی ہوں، اسے ظنی الثبوت وظنی الدلالة کہتے ہیں، جیسے وہ اخبار وآحاد جن کا مفہوم ظنی ہو۔
دلیل کی پہلی قسم سے کسی شی ٴ کی فرضیت وحرمت ثابت ہوتی ہے،دوسری اور تیسری قسم سے کسی شیٴ کا وجوب یا کراہتِ تحریمی ثابت ہوتی ہے، اور چوتھی قسم سے کسی شیٴ کی سنیت اور استحباب ثابت ہوتا ہے، اس لیے یہ فرق کیا جاتا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : ۔۔۔ الأدلة السمعیة أربعة: الأول: قطعي الثبوت والدلالة کنصوص القرآن المفسرة أو المحکمة، والسنة المتواترة التي مفهومها قطعي۔
الثاني: قطعي الثبوت ظني الدلالة کالآیات الموٴولة۔ الثالث: عکسه کأخبار الآحاد التي مفهومها قطعي۔ الرابع: ظنیهما کأخبار الآحاد التي مفهومها ظني۔ فبالأول یثبت الافتراض والتحریم، وبالثاني والثالث الإیجاب وکراهة التحریم، وبالرابع تثبت السنیة والاستحباب۔ (۴۸۷/۹، کتاب الحظر والإباحة)
