(فتویٰ نمبر: ۵۹)
سوال:
زید کے پاس اتنی رقم موجود ہے کہ وہ نقد ثمن (Cash) دے کر کمپنی سے گاڑی وغیرہ خرید سکتا ہے، لیکن اگر وہ ایسا کرتا ہے تو انکم ٹیکس آفیسرس (Income Tax Officers) فوراً اس سے یہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ رقم کہاں سے حاصل کی؟ اس کے لیے قابلِ قبول ثبوت لاوٴ، انکم ٹیکس(Income Tax) بھرو، جو اچھی خاصی رقم ہوتی ہے، اور بھی ٹیکس (Tax)کے سلسلے میں حُکّامِ متعلقہ غلط و ناجائز طور پر بہت تنگ کرتے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید ایسی صورتِ حال میں ناجائز ٹیکس کی ادائیگی اور اس بلاوجہ کی حیرانی و پریشانی سے بچنے کے لیے بینک سے لون لے کر گاڑی خرید سکتا ہے؟ جب کہ اسے اس لون پر سود بھی ادا کرنا ہوگا۔
الجواب وباللہ التوفیق:
عام حالات میں سودی قرض لینا شرعاً جائز نہیں ہے، اور جس طرح سود لینا حرام ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے، اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَأکُلُوْا الرِّبوٰآ أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً﴾۔”اے ایمان والو! سود کئی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاوٴ“۔ (سورة آل عمران :۱۲)
حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا گناہ میں یہ سب برابر کے شر یک ہیں۔’’عن جابر بن عبد اللّٰه – رضي اللّٰه عنه – قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربوا وموکله وکاتبه و شاهدیه ، وقال : هم سواءٌ “ ۔ رواہ مسلم ۔(مشکوة المصابیح : ص/۲۴۴ ، صحیح مسلم :۲۷/۲)
لیکن ہمارے ملکی قانون کچھ اس طرح ہیں کہ اگر ہم اپنے اصل سرمایہ کو ظاہر کرتے ہیں، تو فوراً شعبہٴ انکم ٹیکس (Income Tax Department) حرکت میں آتا ہے، اور یہ بازپُرس ہوتی ہے کہ آپ نے یہ رقم کہاں سے حاصل کی؟ اس کے ثبوت کیا ہیں؟ اتنی رقم انکم ٹیکس میں ادا کرو، اور اس کے علاوہ بھی کئی اور طریقوں سے حیران و پریشان کرتے ہیں، جو شرعاً سراسر ظلم و زیادتی ہے؛ اس لیے اگر کوئی شخص اس ظلم و زیادتی سے بچنے کے لیے بینک سے لون لے کر گاڑی خریدتا ہے، تو اس کی قانونی مجبوری و ضرورت ہے، اس کے لیے بینک سے اتنی رقم قرض پر لینا جائز ہوگا، جس سے وہ قانونی گرفت سے بچ سکے۔
صاحب الاشباہ و النظائر علامہ ابن نجیم مصری حنفی فرماتے ہیں : ” یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح “۔ ضرورت مند کے لیے سودی قرض لینا جائز ہے۔
(الأشباہ والنظائر :۳۲۷/۱ ، البحر الرائق :۱۸۵/۶ ، باب الربوا)
اور دفعِ مضرت یعنی اپنے اُوپر ہونے والے ظلم و زیادتی سے اپنے آپ کو بچانا یہ بھی ضرورت ہی ہے، البتہ اتنی بات یاد رہے کہ جو چیز ضرورةً جائز ہوتی ہے، وہ بقدرِ ضرورت ہی جائز ہوتی ہے، اس سے زائد نہیں۔”الحاجة تنزل منزلة الضرورة “۔ (الأشباہ والنظائر :۳۲۶/۱)
(نظام الفتاویٰ:۲۱۹/۱،کتاب الفتاویٰ :۳۱۵،۳۱۴/۵) فقط
و اللہ أعلم بالصواب
کتبه العبد:محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۰/صفرالمظفر۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی ۔ ۱۰/صفرالمظفر۱۴۲۹ھ
