شوہر ،دو بیٹوں اور چاربیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۴)

سوال:

۱– ایک آدمی (انور صاحب) کی دو بیویاں ہیں، پہلی بیوی سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، اور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں، اب پہلی بیوی کا انتقال ہوا، تو اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟

۲– اس کے بعد انور صاحب کا انتقال ہوا، ان کے پس ماندگان میں پہلی بیوی سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں اور دوسری بیوی اور اس کی دو لڑکیاں ہیں، تو انور صاحب کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-بشرط صحتِ سوال انور صاحب کی پہلی مرحومہ بیوی کے کل پس ماندگان میں شوہر، دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، مرحومہ کی کل جائدادِ منقولہ وغیر منقولہ آٹھ حصوں میں تقیسم ہوکر، دو حصے ان کے شوہر کو(۱)، اور دو دو حصے ان کے دو نوں لڑکوں کو اور ایک ایک حصہ ان کی دونوں بیٹیوں کو ازروئے شرع ملے گا۔(۲)

۲-دوسری صورت میں مرحوم انور صاحب کے کل پس ماندگان میں ان کی پہلی بیوی کے دو لڑکے، دو لڑکیاں اور دوسری بیوی اوراس کی دو لڑکیاں ہیں، مرحوم انور صاحب کی کل جائدادِ منقولہ وغیر منقولہ چونسٹھ (۶۴)حصوں میں تقسیم ہوکر، آٹھ حصے ان کی بیوی کو(۳)، اورچودہ چودہ حصے ان کے دونوں لڑکوں کو، اور سات سات حصے ان کی چار لڑکیوں میں سے ہر ایک کو ازروئے شرع ملیں گے۔(۴)

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِنْ کَانَ لَهنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)

(۲/۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء :۱۱)

ما في ” السراجي في المیراث “ : ومع الإبن للذکر مثل حظ الأنثیین وهو یعصبهن۔ (ص/۱۲)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَُةٍٍ تُوْصُوْنَ بِها أَوْ دَیْنٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱) فقط

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی 

اوپر تک سکرول کریں۔