شوہر ، سات لڑکیوں اور ایک لڑکے کے درمیان تقسیمِ ترکہ

( فتویٰ نمبر: ۱۳۲)

سوال:

۱-زبیدہ بی کا انتقال ہوا ،انہوں نے اپنے پس ماندگان میں شوہر مناف خان، سات لڑکیاں اور ایک لڑکا چھوڑا، اور ترکہ میں چار ایکڑ زمین چھوڑی، اب یہ زمین ان کے ورثا میں کس طرح تقسیم ہوگی؟

۲-محمد مناف خان کا انتقال ہوا، انہوں نے اپنے پس ماندگان میں دس لڑکیاں اور ایک لڑکا چھوڑا، اور ترکہ میں ساڑھے تین ایکڑ زمین اور ایک مکان چھوڑا، اب یہ ترکہ ان ورثا کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-بعد تقدیم ما یقدم علی الارث،میت کی تجہیز وتکفین ،وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد مرحومہ زبیدہ کی کل جائدادِ منقولہ وغیر منقولہ بارہ حصوں میں تقسیم ہوکر، تین حصے اس کے شوہر کو(۱)، اور دو حصے اس کے بیٹے کواور سات لڑکیوں میں سے ہرایک کو ایک ایک حصہ ازروئے شرع ملے گا۔(۲)

۲-مناف خان کو ان کی بیوی زبیدہ کے ترکہ میں جو تین حصے ملے وہ اور ان کی چھوڑی ہوئی جائداد (ساڑھے تین ایکڑ زمین اور ایک مکان) کل بارہ حصوں میں تقسیم ہوکر، دو حصے اس کے بیٹے کو اور ایک ایک حصہ اس کی ہر لڑکی کو از روئے شرع ملے گا۔ (۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِنْ کَانَ لَهنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِها أَوْ دَیْنٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)

(۲/۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱/۲ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔