صرف انگلیوں اور ہتھیلیوں کے اشارے سے سلام

مسئلہ:

بوقتِ سلام صرف ہاتھ یا ہتھیلی کے اشارے سے سلام کا تلفظ کئے بغیر سلام کرنا شرعاً جائز نہیں، اور اس کا جواب دینا بھی واجب نہیں، کیوں کہ صرف انگلیوں کے اشارے سے سلام کرنا یہود کا طریقہ ہے، اور صرف ہتھیلی کے اشارے سے سلام کرنا نصاریٰ کا طریقہ ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں ان کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، ہاں اگر کوئی عذر ہو ،یا کسی وجہ سے سلام کی آواز پہنچنا مشکل ہو تو اشارہ مع تلفظِ سلام یعنی سلام کے الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ اشارہ جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی : ﴿فسلموا علی أنفسکم تحیة من عند الله مبٰرکة طیبة﴾ ۔ (النور :۶۱)

ما في ” جامع الترمذي “ : قوله علیه السلام : ” لیس منا من تشبه بغیرنا ، ولا تشبهوا بالیهود ولا بالنصاریٰ ، فإن تسلیم الیهود الإشارة بالأصابع ، وتسلیم النصاریٰ الإشارة بالأکف “ ۔(۹۹/۲ ، أبواب الاستیذان والاٰداب ، باب ما جاء في کراهیة إشارة الید في السلام)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ویکره السلام بالسبابة ۔ کذا في العنایة ۔(۳۲۶/۵ ، کتاب الکراهیة ، الباب السابع في السلام وتشمیت العاطس)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قال العلامة القرطبي : ” ولا تکفي الإشارة بالإصبع والکف عند الشافعي ، وعندنا تکفي إذا کان علی بعد “ ۔ (۳۰۳/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔