صفائی ستھرائی اور سلیقہ مندی

مسئلہ:

گھروں اور صحنوں کو صاف ستھرا، اور اسباب وسامان کو ترتیب وسلیقہ مندی سے رکھناشرعاً مطلوب ہے، کیوں کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ” إنَّ اللّٰه طَیِّبٌ یُحِبُّ الطّیبَ، نَظِیْفٌ یُحِبُّ النَّظَافَةَ، کَرِیْمٌ یُحِبُّ الْکَرَمَ، جَوَادٌ یُحِبُّ الْجُوْدَ، فَنَظِّفُوْا“ -یعنی اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہیں، پاکیزگی کو پسند فرماتے ہیں، صاف ونظیف ہیں، صفائی ونظافت کو پسند فرماتے ہیں، در گزر کرنے والے ہیں، در گزر کرنے کو پسند فرماتے ہیں، سخی ہیں، سخاوت کو پسند فرماتے ہیں، لہٰذا تم بھی صفائی ستھرائی کو اختیار کرو“۔

علوم شرعیہ کے پڑھنے پڑھانے والوں کو اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہم جن جگہوں میں رہتے ہیں ، پڑھتے ہیں، عبادت کرتے ہیں، وہ صاف ستھری ہوں ، اور ہمارے پڑھنے لکھنے اور استعمال کی تمام چیزیں بھی اپنی جگہوں پر ترتیب وسلیقہ مندی کے ساتھ رکھی ہوں، عدم نظافت وترتیب کو عدم فرصت اور طبیعت کی سادگی پر محمول کرنا، اپنی غیر نظافت پسند اور غیر سلیقہ مند طبیعت کو حسین الفاظ کا جامہ پہنا کر اُسے چھپانے کے مترادف ہے، جو اچھی چیز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” جامع الترمذي “ : عن صالح بن أبي حسّان قال: سمعت سعید بن المسیّب یقول: ”إن الله طیب یحب الطیب، نظیف یحب النظافة، کریم یحب الکرم، جواد یحب الجود، فنظِّفوا“۔ اُراه قال: أفنیتکم ولا تشبّهوا بالیهود، قال: فذکرتُ ذلک لمهاجر ین مسمار فقال: حدثنیه عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبیه عن النبي ﷺ مثله إلا أنه قال: ” نظِّفوا أفنیتکم “۔ قال أبو عیسی: هذا حدیث غریب، وخالد بن إلیاس یضعف ویقال: ابن إیاس۔ (۵۳۷/۳، کتاب الأدب، باب ما جاء في النظافة، بیروت)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ :تزیین البیوت والأفنیة بتنظیفها وترتیبها مطلوب شرعًا لما روي عن النبي ﷺ قال:”إن الله طیب یحب الطیب، نظیف یحب النظافة“۔(۲۷۴/۲۱)

اوپر تک سکرول کریں۔