صفِ اول کونسی؟

مسئلہ:

فقہاء کرام کی تعریف کے مطابق صفِ اول وہ صف ہے، جو امام کے پیچھے ہو اور کسی مقتدی کے پیچھے نہ ہو، ا س تعریف سے علامہ شامی رحمہ اللہ نے ایک جزئیہ یہ مستنبط کیا ہے کہ اگر صفِ اول منبر کی وجہ سے کٹ رہی ہو، تو اس منبر کے بالمقابل دوسری صف میں جو شخص ہو وہ بھی صفِ اول میں شمار ہوگا، اور اس کو بھی صفِ اول کا ثواب ملے گا، اس لیے کہ وہ امام کے پیچھے ہے ، اس کے آگے کوئی مقتدی نہیں ہے، فقہاء کرام کی مذکورہ بالا تعریف اور شامی کے مذکورہ بالا جزئیہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ منبر کی وجہ سے درمیان سے منقطع صف ، صفِ اول شمار ہوگی، اس لیے کہ وہ کسی مقتدی کے پیچھے نہیں ہے، بلکہ امام کے پیچھے ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : ویعلم منه بالأولی أن مثل مقصورة دمشق التي هي في وسط المسجد خارج الحائط القبلي یکون الصف ما یلي الإمام في داخلها، وما اتصل به من طرفیها خارجاً عنها من أول الجدار إلی آخره، فلا ینقطع الصف ببنائها، کما لا ینقطع بالمنبر الذي هو داخلها فیما یظهر ۔۔۔۔ ویؤخذ من تعریف الصف الأول بما هو خلف الإمام: أي لا خلف مقتد آخر، أن من یقام في الصف الثاني بحذاء باب المنبر یکون من الصف الأول، لأنه لیس خلف مقتد آخر۔ والله تعالی أعلم۔

(۲/۳۱۱، کتاب الصلاة، باب الإمامة ، مطلب في الکلام علی الصف الأول، بیروت)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ولکن العلماء اختلفوا في المراد من الصف الأول، فذهب جمهور الفقهاء إلی أن الصف الأول الممدوح الذي وردت الأحادیث بفضله، هو الصف الذي یلي الإمام، سواء تخلله منبر أو مقصورة أو أعمدة أو نحوها۔ اه۔(۳۸/۲۷، صف)

(فتاویٰ امارتِ شرعیه:۴۳۱/۲۔۴۳۲، باب تسویة الصفوف، فتاویٰ رحیمیه:۳۱/۵، باب صفة الصلاة، دار الاشاعت کراچی)

اوپر تک سکرول کریں۔