مسئلہ:
بسا اوقات بڑی مسجد میں یہ صورت پیش آجاتی ہے کہ اگلی صف میں دائیں بائیں جگہ خالی ہوتی ہے، بعد میں آنے والا شخص چاہتا بھی ہے کہ دائیں بائیں خالی جگہ پہنچ کر امام کی اقتداء کرلے، لیکن امام رکوع میں ہوتا ہے، اور ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر میں نے صف میں پہنچنے کی کوشش کی تو امام رکوع سے سر اٹھا لے گا، اورمیری رکعت چھوٹ جائے گی، اس لئے وہ پچھلی صف میں ہی کھڑے ہوکرامام کی اقتداء کرلیتا ہے، رکعت پانے کیلئے یہ عمل مکروہ نہیں ہے، بلکہ افضل ہے،(۱) لیکن جان بوجھ کر اقامت کہی جانے تک ادھر ادھر کی باتیں کرتے کھڑے رہنا ، اور پھر امام کے رکوع میں جانے کے بعد رکعت پانے کیلئے جس صف میں چاہے کھڑے ہوجانا، شرعاً درست نہیں ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الشامیة “ : قال العلامة ابن عابدین: إذا أدرک الإمام راکعاً فشروعه لتحصیل الرکعة فی الصف الأخیر أفضل من وصل الصف۔
(۲۶۸/۲، کتاب الصلوٰة، ملطب فی الکلام علی الصف الأول)
(۲) ما فی ” السنن لأبی داود “ : قال رسول الله ﷺ: ” وسطوا الإمام وسدوا الخلل “۔
(ص:۹۹، الأشباه والنظائر لإبن نجیم :ص:۱۳۹، الفن الثانی، کتاب الصلاة، دارالکتب العلمیة بیروت)
(فتاوی محمودیه: ۴۳۷/۲۱۔۴۳۸)
