طلاق کے بعد بچوں کی پرورش کا حق دار کوں؟

(فتویٰ نمبر: ۱۶۰)

سوال:

۱-اگر طلاق واقع ہوگئی ہے، تو میرے ذمہ عورت کا نان ونفقہ کتنے دن تک ہوگا؟

۲-میرا ایک لڑکا ۲۰۰۰/۲/۱۹ء میں پیداہوا، اب وہ آٹھ سال کا ہونے والا ہے،اور اب تک اپنی ماں کے پاس ہے،تو اس کی کفالت کا حق دار کون ہے ؟ماں یاباپ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-جب تک وہ عدت میں رہے گی اس کا نفقہ آپ کے ذمہ ہے،اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضعِ حمل تک ہے،اور حاملہ نہیں ہے تو تین حیض یعنی تین ماہواری کے گزرنے تک اس کی عدت ہے۔(۱)

۲-بچہ ماں کی پرورش میں رہے گا یہاں تک کہ اپنا کام خود کرنے لگے،جیسے کھانا پینا اوراستنجا وغیرہ، فقہائے کرام نے اس کا اندازہ سات سال سے کیا ہے کہ جب لڑکا سات سال کا ہوجائے، تو باپ کو اس کی پرورش کا حق حاصل ہے ، صورتِ مسئولہ میں چوں کہ بچہ کی عمر سات سال سے زیادہ ہے؛ لہٰذا اب لڑکے کی پرورش کا زیادہ حق دار اس کا باپ ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : قال عمر رضي اللّٰه عنه : سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول : ” للمطلقة الثلاث النفقة والسکنی ما دامت في العدة “ ۔ (۴۵۸/۱)

ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : وللمطلقة النفقة والسکنی في عدتها بائنًا کان أو رجعیًا ۔ (۲۲۹/۲)

(۲) ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : إذا اختصم الزوجان في الولد قبل الفرقة أو بعدها فالأم أحق، ویکون الغلام عندهن حتی یستغني عن الخدمة ۔ (المختار) ۔ وفي الاختیار : قوله : (یستغني عن الخدمة) فیأکل وحده، ویشرب وحده، ویلبس وحده، ویستنجي وحده، وقدره أبو بکر الرازي بتسع سنین، والخصاف بسبع سنین اعتبارًا للغالب، وإلیه إشارة بقول الصدیق رضي اللّٰه عنه : هي أحق به حتی یشب، ولأنه إذا استغنی یحتاج إلی التأدب بآداب الرجال ، والتخلق بأخلاقهم ، وتعلیم القرآن والعلم والحرف، والأب علی ذلک أقدر ، فکان أولی وأجدر ۔ (۲۳۷/۲)

ما في ” الهدایة “ : وقدره الاستغناء بسبع سنین اعتبارًا للغالب۔(۴۱۵/۱ ، باب حضانة الولد ومن أحق به)

(فتاویٰ محمودیه: ۵۶۶/۹) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۲/۲۴ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔