مسئلہ:
آپ ﷺ نے وضو کرتے وقت پانی کو احتیاط کے ساتھ خرچ کرنے کی اس قدر تاکید فرمائی کہ ایک حدیث میں آپ نے یہاں تک فرمایا : ”پانی کو فضول خرچ کرنے سے بچو ، خواہ تم کسی بہتے ہوئے دریا کے پاس کھڑے ہو“ ۔(۱)
ظاہر ہے جو شخص کسی بہتے ہوئے دریا سے وضو کررہا ہو، اُسے پانی کی کمی کا کوئی اندیشہ نہیں ہوسکتا، لیکن آپ ﷺ نے اُسے بھی پانی احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے کی تاکید فرمائی، آپ ﷺ کا یہ ارشاد بابِ وضو میں گرچہ خاص ہے ، مگر ہر چیز کے استعمال میں احتیاط برتی جائے، اس بابت عام ہے، کیوں کہ فقہ کا قاعدہ ہے : ” العبرة لعموم الألفاظ لا لخصوص السبب “ اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے، نہ کہ خصوصِ سبب کا۔(۲)
ہم طلباء مدارسِ دینیہ، نبی آخر الزماں ﷺ کے وارث ہیں، زمانہٴ طالب ِعلمی ہی سے ہمارے مزاج میں احتیاطی پہلو غالب رہنا چاہیے، اہلِ مدارس کی طرف سے پانی ، روشنی، کھانے پینے کی چیزیں اور لکھنے پڑھنے کے آلات وغیرہ کی جو سہولتیں بہم پہنچائی جاتی ہیں، اُن کا استعمال احتیاط کے ساتھ بقدرِ ضرورت ہی ہونا چاہیے، قیام گاہوں، درسگاہوں میں بلب جلائیں، پنکھے چلائیں تو ضرورت پوری ہونے پر انہیں بند کردیں، وضو اور غسل سے فراغت پر نلوں کو اچھی طرح بند کردیں، کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ احترام برتیں، نہ یہ کہ جس قدر چائے پینی تھی پی لی، بقیہ وہی انڈیل دی، جس قدر کھانا ،کھانا تھا کھالیا، بقیہ یوں ہی چھوڑ دیا۔… اگر ہم نے اپنی یہ عادت نہ بدلی ،فضول خرچی(۳) کو چھوڑ کر احتیاط کو نہیں اپنایا ،تو یہ بات ہمارے لئے بڑی نقصان دہ ثابت ہوگی، حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں :” جب کسی قوم کا مزاج یہ بن جائے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو بے دریغ، بلا ضرورت استعمال کریں ، تو ایسی قوم کے لیے بہتے دریا بھی نا کافی ہوسکتے ہیں“۔(۴)۔امید کہ طلباء عزیز اس جانب خاص توجہ فرمائیں گے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” سنن ابن ماجه “ : عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله ﷺ مرّ بسعد وهو یتوضأ، فقال: ما هذا السرف ؟ فقال : أفي الوضوء إسراف ؟ قال : نعم ، وإن کنت علی نهر جار ۔ (۲۷۲/۱)
ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : ویکره الإسراف فیه تحریمًا لو بماء النهر أو المملوک له، أما الموقوف علی من یتطهر به ومنه ماء المدارس فحرام۔
(ص:۸۰، فصل في المکروهات)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : والکراهة فیما إذا کان الماء مملوکاً أو مباحاً، أما الماء الموقوف علی من یتطهر به ومنه ماء المدارس، فإن الزیادة فیه علی الثلاث حرام عند الجمیع لکونها غیر ماذون بها، لأنه إنما یوقف ویساق لمن یتوضأ الوضوء الشرعي، ولم یقصد اباحتها لغیر ذلک۔ (۱۷/۴، بدائع الصنائع:۱۱۳/۱)
(بیسواں فقهی سیمنار اسلامک فقه اکیڈمی انڈیا :۲۰۱۱ء)
(۲) ( جمهرة القواعد: ۷۷۸/۲، القواعد الکلیة: ۲۹۲)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وکلوا واشربوا ولا تسرفوا، إنه لا یحبّ المسرفین﴾۔ (الأعراف:۳۱)
ما في ” أحکام القرآن لإبن العربي “ : الإسراف تعدی الحد، فنهاهم عن تعدی الحلال إلی الحرام، وقیل ألا یزیدوا علی قدر الحاجة۔ (۷۸۱/۲)
(۴) (ذکر وفکر :ص /۷۷،موٴلفہ مفتی محمد تقی عثمانی، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)
