(فتویٰ نمبر: ۲۳۳)
سوال:
نور الایضاح میں زکوة کی تعریف یہ مکتوب ہے کہ ” ہي تملیک مال مخصوص لشخص مخصوص“، تو اس اعتبار سے جو لوگ جامعہ (اکل کوا) کے اندر زکوة دیتے ہیں، ان کی زکوة ادا ہوتی ہے یا نہیں؟ کیوں کہ جو کھانا کھلایا جاتا ہے اس میں تملیک نہیں پائی جاتی ہے، تو اس کی کیا شکل ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
دارالافتا کے علم کے مطابق طلبہٴ جامعہ (اکل کوا) کو جو کھانا دیا جاتا ہے، وہ عطیات کی رقوم سے ہوتا ہے نہ کہ زکوة کی؛ اس لیے اس میں تملیک شرط نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : الإباحة في اللغة : الإحلال ، یقال : أبحتک أي أحللت لک، والمباح خلاف المحظور ۔ (۱۲۶/۱)
ما في ” کتاب التعریفات للجرجاني “ : الإباحة هي الإذن بإتیان الفعل کیف شاء الفاعل ۔ (ص/۱۲ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : العطیة : ما یعطی بغیر عوض هبةً کان أو صدقةً أو هدیةً ۔ (ص/۳۱۶) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۲۶ھ
