طواف یا سعی میں موبائل پر گفتگوکرنا

مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بحالت طواف یا صفا مروہ کے درمیان سعی
کرتے ہوئے بذریعہ موبائل گفتگو کرنا، یا کسی کے کال کا جواب دینا درست نہیں ہے، جب کہ یہ خیال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ موبائل پر ضروری گفتگو کرنے سے طواف یا سعی میں کوئی خرابی نہیں آتی ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ بلا ضرورت کسی طرح کی گفتگونہ کرے، اور طواف وسعی کے درمیان ذکر واذکار میں مشغول رہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” المصنف لإبن أبي شیبة “ : عن یزید بن أبی زیاد قال : کان مجاهد وسعید بن جبیر وعلي بن عبد الله بن العباس والحسین بن الحسن وأبو جعفر یتکلمون وهم یطوفون بالبیت بین الصفا والمروة۔ (۶۴/۸، کتاب الحج، من رخص فی الکلام فی الطواف)

ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : صرح الحنفیة بکراهة الکلام اثناء الطواف لکنه محمول علی ما لا حاجة فیه، لأن ذلک یشغله عن الدعاء ۔۔۔۔۔ قال الترمذی: العمل علی هذا عند أکثر أهل العلم، یستحبون أن لا یتکلم الرجل فی الطواف إلا لحاجة أو بذکر الله تعالی أو من العلم، والکلام المباح الذی یحتاج إلیه لا بأس به، أما الکلام غیر المحتاج إلیه فإنه یکره لقول ابن عمر: ” أقلوا الکلام فی الطواف فإنما أنتم فی صلاة “۔ (۱۱۹/۳۵۔۱۲۰، الکلام فی الطواف)

اوپر تک سکرول کریں۔