ظہر کی نماز قصر کرکے پھر جمعہ کی نماز اداکرنا!

(فتویٰ نمبر : ۱۰۹)

سوال:

ایک شخص نے جمعہ کے دن سفر کیا، اس نے نمازِ ظہر میں قصر کیا، بعد میں اس نے نمازِ جمعہ ادا کیا، تو کیا اس کی نمازِ جمعہ ادا ہوگئی؟

نیز نمازِ ظہر اُس کے ذمے سے ساقط ہوگی یا نفل ہوجائے گی؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر شخصِ مذکو ر نے بعد از نمازِ ظہر سعی الی الجمعة کی، اور امام کے ساتھ اُسے نمازِ جمعہ مل گئی، تو اُس کی نمازِ ظہر باطل ہوجائے گی اوروہ ظہر نفل ہوجائے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : إن أدی الظهر ثم سعی إلی الجمعة فأدرکها مع الإمام بطل ظهره سواء کان معذورًا کالمسافر والمریض والعبد أو غیره ۔

(۱۴۸/۱ ، کتاب الصلاة ، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة ، فتح القدیر : ۶۱/۲ ، کتاب الصلاة ، فصل في صلاة الجمعة)

(حلبي کبیر: ص/۵۶۳، فصل في صلاة الجمعة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۸/۵ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔