عدت، طلاق کے بعد معتبر ہوتی ہے، اس سے پہلے نہیں

مسئلہ:

بسا اوقات نکا ح کے بعد میاں بیوی کچھ دن یا مہینے ساتھ میں رہتے ہیں، پھر دونوں میں کسی بات پر اَن بَن ہونے کی وجہ سے عورت ناراض ہوکر اپنے والدین کے گھر بیٹھ جاتی ہے، اور اس طرح ایک لمبا عرصہ (مثلاً دو تین سال) گذر جاتا ہے، اور دونوں کے دوبارہ ایک ساتھ رہنے کی کوئی صورت نہیں بن پاتی ہے، تو شوہر اسے طلاق دیدیتا ہے، اب خود عورت یا اس کے والدین یہ خیال کرتے ہیں کہ چوں کہ ایک لمبے عرصے سے ازدواجی تعلقات کی نوبت نہیں آئی، اس لئے عورت پرعدت واجب نہیں ہوگی، اور طلاق کے فوراً بعد کسی اور سے اس کا نکاح کردیتے ہیں، جو شرعاً جائز نہیں ہے،(۱) کیوں کہ عدت کا اعتبار شوہر کی وفات یا طلاق کے بعد ہوتا ہے،(۲) اس سے پہلے نہیں، اس لئے صورتِ مذکورہ میں عورت پر طلاق کے بعد عدتِ طلاق کا گذارنا ضروری ہے، اس کے بعد ہی وہ کسی اور کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے ۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : لا یجوز للرجل أن یتزوج زوجة غیره، وکذلک المعتدة، کذا فی السراج الوهاج، سواء کانت العدة عن طلاق أو وفاة۔

(۲۸۰/۱، کتاب النکاح، القسم السادس المحرمات التی یتعلق بها حق الغیر)

ما فی ” بدائع الصنائع “ : فی شرط الزوجة: منها أن لا تکون معتدة الغیر لقوله تعالی: ﴿ولا تَعزِموا عُقدةَ النکاح حتی یبلغ الکتابُ أجلَه﴾ أی ما کتب علیها من التربص، ولأن بعض أحکام النکاح حالة العدة قائم فکان النکاح قائماً من وجه، والثابت من وجه کالثابت من کل وجه فی باب الحرمات۔ (۴۵۱/۳، کتاب النکاح، فصل فی شرط الزوجة)

(۲) ما فی ” البحر الرائق “ : (ومبدأ العدة بعد الطلاق والموت) یعنی إبتداء عدة الطلاق من وقته وإبتداء عدة الوفاة من وقتها ۔۔۔۔۔۔۔ لأن سبب وجوبها الطلاق أو الوفاة فیعتبر إبتداء ها من وقت وجود السبب کذا فی الهدایة۔ (۲۴۳/۴، باب العدة)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وإبتداء العدة فی الطلاق عقیب الطلاق وفی الوفاة عقیب الوفاة کذا فی الهدایة۔ (۵۳۱/۱، الباب الثالث عشر فی العدة)

ما فی ” الدر المختار “ : ومبدأ العدة بعد الطلاق وبعد الموت علی الفور۔

(۲۰۲/۵ ، باب العدة، الهدایة: ۴۲۵/۲ ، باب العدة، شرح الوقایة: ۱۵۰/۲ ، باب العدة، عمدة الرعایة علی هامش شرح الوقایة: ۱۵۰/۲)

(۳) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿فإذا بلغن أجلهنّ فلا جناح علیکم فیما فعلن فی أنفسهنّ بالمعروف، والله بما تعملون خبیر﴾ ۔ (سورة البقرة :۲۳۴)

ما فی ” أحکام القرآن لإبن العربي “ :﴿فإذا بلغن أجلهنّ﴾ یعنی انقضت العدة فلا جناح علیکم فیما فعلن فی أنفسهنّ، هذا خطاب للأولیاء، وبیان أن الحق فی التزویج لهن فیما فعلن فی أنفسهن بالمعروف أی من جائز شرعاً یرید من اختیار أعیان الأزواج ۔ (۲۱۲/۱)

(فتاوی رحیمیه: ۴۲۵/۸، فتاوی حقانیه: ۵۳۸/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔