عریانیت وفحاشیت ڈیزائن والے لباس پہننا

مسئلہ:

بعض کمپنیاں ایسے کپڑے ڈیزائن (Design) کرتی ہیں، جو انتہائی عریانیت اور فحاشیت کی غرض سے پہنے جاتے ہیں، اور یہ کمپنیاں اُن کپڑوں کی نہ صرف اندرون ملک تجارت کرتی ہیں، بلکہ یورپ اور امریکہ وغیرہ بھی برآمد کرتی ہیں، اور وہاں کی بد اخلاق اور فحاش عورتیں ان کو پہنتی ہیں، ایسے لباس بنانا اور بیچنا مکروہ ہے، اس سے احتراز کرنا چاہیے، گرچہ ان کی آمدنی حرام نہیں، جب کہ ان کا پہننا حرام ہے۔

نوٹ:  مکروہ سے مراد ، مکروہِ تنزیہی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ویکره) تحریماً (بیع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة علی المعصیة ۔۔۔۔ قلت: وأفاد کلامهم أن ما قامت المعصیة بعینه یکره بیعه تحریماً، وإلا فتنزیهاً۔ نهر۔ (۴۲۰/۶۔۴۲۱، کتاب الجهاد، باب البغاة، بیروت)

ما في ” النهر الفائق شرح کنز الدقائق “ : (وکره بیع السلاح من أهل الفتنة) ۔۔۔۔ لأنه إعانة علی المعصیة۔

(۲۶۸/۳، کتاب الجهاد، باب البغاة، دار الإیمان سهارنفور، البحر الرائق:۲۴۰/۵، کتاب السیر، باب البغاة، بیروت، تبیین الحقائق:۱۹۹/۴، کتاب السیر، باب البغاة، بیروت)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۸۷۲۵)

اوپر تک سکرول کریں۔