مسئلہ:
والد کے ذمہ اپنے لڑکے یا لڑکی کا عقیقہ کرنا، بلوغت سے پہلے، ساتویں دن، چودہویں دن، یا اکیسویں دن مستحب ہے، بلوغت کے بعد عقیقہ والد کے ذمہ باقی نہیں رہتابلکہ ساقط ہوجاتا ہے، البتہ بلوغت کے بعد لڑکا یا لڑکی خود اپنا عقیقہ کرے، یا کوئی اور شخص مثلاً کوئی عزیز یا شوہر اپنی طرف سے اپنی بیوی کا عقیقہ کردے تو درست ہوگا(۱)، اور رہی بات لڑکی کے نام کے ساتھ کس کا نام رہے گا، شوہر یا باپ کا، تو اس کے نام کے ساتھ اس کے باپ کا نام رہے گا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” اعلاء السنن “ : عن بریدة أن النبی ﷺ قال: ”العقیقة لسبع أو أربع عشرة أو إحدی وعشرین “۔رواه الطبرانی فی الصغیر والأوسط۔
(۱۳۱/۱۷، باب افضلیة ذبح الشاة فی العقیقة)
ما فی ” فتح الباری “ : فنقل الرافعی أنه یدخل وقتها بالولادة ، قال: وذکر السابع فی الخبر بمعنی أن لا توٴخر، ثم قال: والإختیار أن لا توٴخر عن البلوغ، فإن أخرت عن البلوغ سقطت عمن کان یرید أن یعق عنه ، لکن إن أراد أن یعق عن نفسه فعل۔(۵۹۶/۹، باب إماطة الأذی عن الصبی فی العقیقة)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله﴾۔(سورة الأحزاب:۵)
ما فی ” المغنی “ : روی عن النبی ﷺ أنه قال : ” إنکم تدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم “۔ (۱۲۳/۱۱، فصل ، ۷۸۹۹، بیروت)
