مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کوئی شخص مکہ مکرمہ جائے اور وہاں جاکر اپنی طرف سے یا اپنے والدین یاکسی اور کی طرف سے عمرہ کرے، تو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے، ان کا یہ خیال صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ جب ایسا شخص جس پر حج فرض نہیں تھا اور وہ عمرہ کی غرض سے مکة المکرمہ پہنچ گیا، جب کہ حج کا زمانہ بھی قریب ہے، تو اس کے ذمہ حج فرض ہوجاتا ہے، چاہے اپنی طرف سے عمرہ کے لیے گیا ہو یا اپنے والدین کی طرف سے، اور اگر حج کا زمانہ قریب نہیں تو اس کے ذمہ حج فرض نہیں ہوا، اس پر حج کی فرضیت کے لیے وجوبِ حج کی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے، محض مکہ مکرمہ پہنچ جانے اور عمرہ کرلینے کی بناء پر حج فرض نہیں ہوتا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : في اللباب : الفقیر الآ فاقي إذا وصل إلی میقات فهو کالمکي ۔۔۔۔۔ فلما صار کالمکي وجب علیه۔
(۴۵۹/۳، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام ، بیروت)
ما في ” غنیة الناسک في بغیة المناسک “ : والفقیر الآفاقي إذا وصل إلی المیقات صار کالمکي فیجب علیه وإن لم یقدر علی الراحلة ۔ فتح ولباب۔ وینبغي أن یراد به الفقیر المتنفل لنفسه لیخرج الفقیر المأمور به، لأنه إذا وصل إلی المیقات لا یصیر کالمکي، لأن قدرته بقدرة غیره وهي لا تعتبر فلا یجب علیه ، بخلاف المتنفل لنفسه، لأنه إذا وصل إلی المیقات صار قادراً بقدرة نفسه، وإن کان سفره تطوعاً ابتداءً۔
(ص:۶، مسئلة الفقیر الآفاقي إذا وصل إلی المیقات صار کالمکي، مطبوعه الخیریة میرٹھ، بحواله فتاویٰ محمودیه:۳۶۰/۱۵، مکتبه محمودیه میرٹھ)
