مسئلہ:
عورت کے ساتھ جانے والا محرم ایسا ہو نا چاہیے جو خود ثقہ اور پاکباز ہو ، اگر عورت مامون نہ ہو، یا اس محرم کے ساتھ جانے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس کے ساتھ حج کو جانا عورت کے لیے جائز نہ ہوگا ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه مع الشامیة “ : ومع زوج أو محرم بالغ عاقل، والمراهق کبالغ غیر مجوسی ولا فاسق لعدم حفظهما۔
(۴۱۱/۳، مطلب یقدم حق العبد علی حق الشرع)
ما فی ” البحر الرائق “ : ویشترط فی حج المرأة من سفر زوج أو محرم بالغ عاقل غیر مجوسی ولا فاسق مع النفقة علیه۔ (۵۵۲/۲، کتاب الحج، مکتبه دارالکتاب دیوبند)
ما فی ” النهر الفائق “ : وبشرط محرم وهو من لا یجوز له مناکحتها علی التأبید بقرابة أو رضاع أو صهریة مسلماً إلا أن یکون فاسقاً ۔
(۵۷/۲، کتاب الحج، الفقه الحنفي في ثوبه الجدید:۴۵۴/۱، کتاب الحج، شروط أدائه)
ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : قال القدوری فی شرحه : إلا أن یکون مجوساً یعتقد إباحة مناکحتها فلا تسافر معه، وکذا المسلم إذا لم یکن مأموناً لا تسافر معه۔
(۱۴۹/۲، کتاب الحج)
