عورت کا شوہر کی خدمت کرنا

مسئلہ:

عورت کا اپنے شوہر کی خدمت کرنا، اس کے گھر کے اسباب کی صفائی وسلیقہ مندی سے رکھنا، گھر کی صاف صفائی کرنا، شوہر کے کپڑوں کو دھونا، اور ان کو پریس کرنا، بچوں کو نہلانا دھلانا، اور انہیں کھلانا پلانا، عورت پر واجب ہے، کیوں کہ آپ ﷺ کے عہد ِ مبارک میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی بیویاں اُن کی خدمت کیا کرتی تھیں، اور گھر کے تمام کاموں کو انجام دیتی تھیں، خود آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کے تمام کاموں کو انجام دیتی تھیں، اور اپنے شوہر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتی تھیں، اس لیے کہ یہ تمام کام معاشرت بالمعروف میں داخل ہیں ، اور یہی اصل ہے۔

ہاں! اگر عورت ایسے ماحول میں پلی بڑھی جس میں عورتیں گھر کے ان کاموں کو انجام نہیں دیتیں، اور عورت ان کاموں کے کرنے سے انکار کرے، تو پھر شوہر ان کاموں کے لیے گھر میں کسی نوکرانی یا خادمہ کو رکھنے کا مکلف ہوگا، کیوں کہ شریعت نے ہمیں عورتوں کے ساتھ ان کے عرف وعادت کے مطابق معاشرت کا حکم دیا ہے، ارشادِ ربانی ہے: ﴿وعاشروهنّ بالمعروف﴾ ۔

نیز جب شوہر کو معلوم تھا کہ جس عورت سے میں نکاح کررہا ہوں، ان کے گھر کا ماحول یہ ہے کہ عورتیں ان کاموں کو انجام نہیں دیتیں، اس کے باوجود اس سے شادی کی، تو گویا اس نے اس شرط کو قبول کیا کہ عورت ان کاموں کو نہیں کریگی۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : امتنعت المرأة عن الطحن والخبز إن  کانت ممن لا تخدم أو کان بها علة فعلیه أن یأتیها بطعام مهیأ وإلا بأن کانت ممن تخدم نفسها وتقدر علی ذلک لا یجب علیه، ولا یجوز لها أخذ الأجرة علی ذلک لوجوبه علیها دیانة ولو شریفة، لأنه علیه الصلاة والسلام قسم الأعمال بین علي وفاطمة فجعل أعمال الخارج علی عليّ رضي الله تعالی عنه والداخل علی فاطمة رضي الله تعالی عنها مع أنها سیدة نساء العالمین ۔ بحر ۔

(۲۳۰/۵۔۲۳۱، کتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب لا تجب علی الأب نفقة زوجة ابنه الصغیر، الموسوعة الفقهیة:۴۰/۱۹، خدمة، إخدام الزوجة)

ما في ” البحر الرائق “ : ویوافقه ما قید به الفقیه أبو اللیث کلام الخصاف حیث قال في أدب القاضي: لو فرض ما یحتاج إلیه من الدقیق والدهن واللحم والإدام فقالت: لا أعجن ولا أخبز ولا أعالج شیئًا من ذلک لا تجبر علیه وعلی الزوج أن یأتیها بمن یکفیها عمل ذلک۔

قال الفقیه أبو اللیث: هذا إذا کان بها علة لا تقدر علی الطبخ والخبز أو کانت ممن لا تباشر ذلک، فإن کانت ممن تخدم نفسها وتقدر علی ذلک لا یجب علیه أن یأتیها بمن یفعله، وفي بعض المواضع تجبر علی ذلک، قال السرخسي: لا تجبر ولکن إذا لم تطبخ لا یعطیها الإدام وهو الصحیح، وقالوا: إن هذه الأعمال واجبة علیها دیانة وإن کان لا یجبرها القاضي، ولذا قال في البدائع: لو استأجرها للطبخ والخبز لم یجز ولا یجوز لها أخذ الأجرة علی ذلک لأنها لو أخذت لأخذت علی عمل واجب علیها في الفتوی فکان في معنی الرشوة فلا یحل لها الأخذ۔ (۳۱۱/۴، کتاب الطلاق، باب النفقة ، فتح القدیر:۳۴۹/۴، کتاب الطلاق، باب النفقة)

(فتاویٰ رحیمیه:۴۴۷/۸، موقع المسلم علی شبکة نیت)

ما في ” درر الحکام “ : المعروف عرفًا کالمشروط شرطًا۔ (۵۱/۱، رقم المادة:۴۳، شرح القواعدالفقهیة: ص/۲۳۷)

اوپر تک سکرول کریں۔