عورت کا عدت کے زمانے میں سفرِ حج

مسئلہ:

بسا اوقات میاں بیوی، دونوں حج کا فارم بھرتے ہیں، اور قرعہ اندازی میں اُن کا نام بھی آجاتا ہے، پھر اچانک شوہر کا انتقال ہوجاتا ہے، اور بیوی پر عدتِ وفات لازم ہوجاتی ہے، اب اعزاء واقارب عورت کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ پھر دوبارہ نام نکلے یا نہ نکلے، اور آئندہ سال تک زندگی وفا کرے یا نہ کرے، اِس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ اِسی سال فلاں فلاں عزیز وقریب کے ساتھ سفرِحج کرلو، اُن کا یہ مشورہ درست نہیں ہے، کیوں کہ اِس میں دو شرعی خرابیاں ہیں:(۱)عورت کا عدت کے زمانے میں سفر کرنا(۱)، (۲) ہر عزیز وقریب کے محرم نہ ہونے کی وجہ سے غیر محرم کے ساتھ سفر کرنا(۲) ،ہاں! اگر سفر سے پہلے عدتِ وفات پوری ہوجائے، اور سفر میں کوئی محرم یعنی ایسا شخص جس کے ساتھ اِس عورت کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو، ساتھ ہو، تو پھر اُن کا یہ مشورہ درست ہے، اور اِس صورت میں عورت کو حج کرلینا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” البحر الرائق “ : والثانیة یعني شرائط وجوب أداء خمسة علی الأصح، صحة البدن وزوال مانع الحسیة عن الذهاب إلی الحج، وأمن الطریق، وعدم قیام العدة في حق المرأة۔ (۵۳۹/۲، کتاب الحج)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ومن شرائط الحج عدم قیام العدة في حق المرأة عدة وفاة کانت أو عدة طلاق، والطلاق بائن أو رجعي، فلا تخرج المرأة إلی الحج في عدة طلاق أو موت۔ (۲۱۹/۱، کتاب المناسک، الباب الأول)

ما في ” غنیة الناسک “ : والخامس : عدم عدة علیها مطلقًا، سواء کانت من طلاق بائن أو رجعي أو وفاة أو فسخ أو غیر ذلک۔

(ص:۳۵، فصل وأما شرائط وجوب الأداء فخمسة علی الأصح)

(۲) ما في ” اعلاء السنن “ : ” لا تحجّنّ امرأة ومعها ذو محرم “۔ (۱۰۱۵، کتاب الحج، باب اشتراط المحرم أو الزوج الخ)

ما في ” بدائع الصنائع “ : أن یکون معها زوجها أو محرم لها، فإن لم یوجد أحدهما لا یجب علیها الحج۔ (۵۴/۳، کتاب الحج، فصل في شرائط فرضیته)

ما في ” الشامیة “ : والمحرم أو الزوج للمرأة وعدم العدة لها۔ (۴۰۴/۳، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ومنها المحرم للمرأة شابة کانت أو عجوزًا۔ (۲۱۸/۱، کتاب المناسک، الباب الأول)

ما في ” غنیة الناسک “ : الرابع : المحرم أو الزوج لامرأة بالغة ولو عجوزًا۔ (ص:۳۰، فصل واما شرائط وجوب الأداء فخمسة علی الأصح)

اوپر تک سکرول کریں۔