عورت کا نابالغ محرم کے ساتھ سفر

مسئلہ:

اسلام نے شرعی مسافتِ سفر تک کے ، سفر کے لیے عورت کے ساتھ کسی محرم کے ہونے کو ضروری قرار دیا ہے، لیکن محرم سے مراد ایسا رشتہ دار محرم ہے ، جو عاقل وبالغ ہو، اور حفاظت کرنے پر قادر ہو، چنانچہ اگر سفر میں عورت کے ساتھ صرف نابالغ محرم ہو، تو یہ سفر کے جائز ہونے کے لیے کافی نہیں، اور عورت کا اس طرح نکلنا درست نہیں ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” اتحاف أولي الألباب بحقوق الطفل وأحکامه “ : یشترط في المحرم أن یکون بالغًا ذا قدرةٍ علی حفظ وصیانة من هو محرم لها، وقد سئل الشیخ صالح الفوزان عن الرجل یسمح لزوجته بالسفر بالطائرة مع طفلها الصغیر؟ ولا یسافر معها هو بحجة أنه مشغول ولا یسمح عمله بذلک فما رأیکم؟ فأجاب: لا یجوز للمرأة أن تسافر بدون محرم لا في الطائرة ولا في غیرها لعموم قوله ﷺ: ”لا یحل لامرأة توٴمن بالله أن تسافر مسیرة یوم ولیلة “ وفي روایة أخری: ” مسیرة یومین إلا مع ذي محرم “ والمحرم هو الرجل البالغ الذي یحرم علیه نکاحها علی التأبید بنسب أو بسبب مباح وغیر البالغ والطفل لا یکفی محرمًا۔ (ص:۴۷۳)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وقالوا في الصبي الذي لم یحتلم والمجنون الذي لم یفق إنهما لیسا بمحرمین في السفر۔

(۵۶/۳، کتاب الحج، فصل في شرائط فرضیته، البحر الرائق: ۵۵۲/۲، کتاب الحج، الفتاوی الهندیة:۳۶۶/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔