عورت کے انتقال کے بعد اس کا مہر ترکہ میں شامل ہوگا!

(فتویٰ نمبر: ۱۷۹)

سوال:

اگر کسی آدمی کی بیوی مرجائے اور اس نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا، تو اب وہ مہر کس کو دیا جائے ؟ اگر کوئی اور صورت ہو تو وضاحت فرمائیں!

الجواب وباللہ التوفیق:

عورت کے انتقال کے بعد اگر اس کا مہر شوہر کے ذمہ باقی تھا، تو اب وہ مہر ترکہ میں شمار ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : لأن کل المهر لما وجب بنفس العقد فصار دینًا علیه، والموت لم یعرف مسقطًا للدین في أصول الشرع، فلا یسقط شيء منه بالموت کسائر الدیون۔(۱۷۳/۳۹)

(بدائع الصنائع : ۵۸۸/۲ ، کتاب النکاح ، بیان ما یتأکد به المهر)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : لا خلاف بین الفقهاء في عدم تأثیر موت الدائن علی الدیون التي وجبت له في ذمة الغرماء ، وإنما تنتقل إلی ورثته کسائر الأموال التي ترکها ؛ لأن الدیون في الذمم أموال حقیقة ، أو حکمًا باعتبارها توٴول إلی مال عند الاستیفاء ۔(۲۶۱/۳۹) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔