(فتویٰ نمبر: ۶۴)
سوال:
اگر کسی عورت کے پاس اتنا سونا ہو کہ اگر اس کی قیمت لگائی جائے، تو مال یعنی روپیہ کے حساب سے وہ زکوة کے نصاب کو پہنچے ،لیکن ساڑھے سات تولہ نہ ہو، تو اس کی زکوة روپیہ کے اعتبار سے ہوگی ؟یا ساڑھے سات تولہ کے حساب سے ہوگی ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
ساڑھے سات تولہ سونے پر زکوة واجب ہوتی ہے،اگر سونا اس سے کم اور اس کے علاوہ نقد روپیہ یا چاندی وغیرہ کچھ بھی نہ ہو، تو زکوة واجب نہیں ہوگی،خواہ اس سونے کی قیمت نصابِ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” بدائع الصنائع “ : فأما إذا کان له ذهب مفرد فلا شيء فیه ، حتی یبلغ عشرین مثقالا ، فإذا بلغ عشرین مثقالا ففیه نصف ، ولما روي في حدیث عمرو بن حزم : والذهب ما لم یبلغ قیمته مائتي درهم فلا صدقة فیه ، فإذا بلغ قیمته مائتي درهم ففیه ربع العشر ۔(۴۱۰/۲ ، کتاب الزکاة ، فصل فیما إذا کان ذهبا مفردًا)
ما في ” الهدایة “ : لیس فیما دون عشرین مثقالا من ذهب صدقة ۔(۱۷۵/۱ ، باب زکاة الأموال ، فصل في الذهب) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۲۵ھ
