مسئلہ:
عیدگاہ بہت سے امور میں بحکمِ مسجد ہے، اس لیے عیدگاہ میں کھیل تماشا اور کُشتی وغیرہ کا کرانا، یہ تمام امورِ محرمہ حرام اور ناجائز ہیں، متولی ٴ عیدگاہ کو چاہیے کہ کسی کو عید گاہ میں ان امور کے ارتکاب کیلئے ہرگز اجازت نہ دے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وأما المتخذة لصلاة الجنازة أو عید فهو مسجد فی حق جواز الإقتداء۔ (۴۳۰/۲، کتاب الصلاة، مطلب فی أحکام المسجد)
ما فی ” الشامیة “ : في کتا ب الوقف منها عن الخانیة : ویجنب هذا المکان مما یجنب عنه المساجد احتیاطاً۔
(الشامیة :۵۴۵/۶، کتاب الوقف، مطلب إذا وقف کل نصف علی حدةٍ صارا وقفین)
(احسن الفتاوی:۴۲۸/۶، فتاوی دارالعلوم: ۱۲۲/۱۴۔۱۲۳)
