مسئلہ:
اسلام کی نظر میں ذات پات کی بنیاد پر نہ کوئی اَپر کلاس (Upper Class)ہے، نہ بیک ورڈ کلاس (Backword Class)(۱)،لیکن حکومت وقت نے برادرانِ وطن کے سماجی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے، مسلمانوں کی کچھ برادریوں کو بیک ورڈ قرار دیا ہے، اور انہیں مخصوص قسم کی مراعات دے رکھی ہے، اگر کوئی شخص اس برادری سے تعلق نہ رکھتا ہو ، اور اس کی طرف نسبت کرکے اور اس کا سرٹیفکیٹ (Certificate)بنوا کر ان مراعات کو حاصل کرتا ہے، تو یہ سخت گناہ ہے، جھوٹ اور دھوکہ تو ہے ہی،(۲) لیکن خاص کر خاندانی نسبت کے بارے میں غلط بیانی کی رسول اللہ ﷺ نے بڑی سخت مذمت فرمائی ہے، اس لئے غلط بیانی کے ذریعہ اوبی سی سر ٹیفکیٹ بنانا اور اس سے فائدہ اٹھانا گناہ ہے،(۳) لیکن اگر اس کے ذریعہ کوئی ملازمت حاصل کی گئی، تو حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی، کیوں کہ یہ صورت منہی عنہ قبیح لغیرہ کے قبیل سے ہے، جس میں فعل بذاتِ خود مشروع ہوتا ہے، لیکن اپنے غیر کی وجہ سے ممنوع ہوتا ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها الناس إنا خلقنٰکم من ذکر وأنثیٰ وجعلنٰکم شعوباً وقبآئل لتعارفوا﴾۔ (سورة الحجرات : ۱۳)
(۲) ما فی ” السنن للترمذی “ : عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:۔۔۔۔۔۔ ” وإیاکم والکذب، فإن الکذب یهدی إلی الفجور، وإن الفجور یهدی إلی النار “۔
(۱۸/۲، أبواب البر والصلة، باب ما جاء فی الصدق والکذب)
ما فی ” السنن للترمذی “ : عن أبی بکر الصدیق رضی الله تعالی عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” ملعون من ضارَّ موٴمناً أو مَکَرَ بِه “۔
(السنن للترمذی : ۱۵/۲، أبواب البر والصلة، ما جاء فی الخیانة والغش)
(۳) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿أدعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله﴾۔ (سورة الأحزاب :۴)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : روی عن النبی ﷺ أنه قال: ” من ادعی إلی غیر أبیه وهو یعلم أنه غیر أبیه فالجنة علیه حرام “۔ (۴۶۴/۳)
(۴) ما فی ” نور الأنوار “ : النهی أن یکون قبیحاً لغیره، وذلک نوعان؛ وصفاً ومجاوراً، یعنی أن النوع الأول ما یکون القبیح وصفاً للمنهی عنه أی لازماً غیر منفک عنه کالوصف، والنوع الثانی ما یکون القبیح فیه مجاوراً للمنهی عنه فی بعض الأحیان، ومنفکاً عنه فی بعض آخر کالکفر وبیع الخمر وصوم یوم النحر والبیع وقت النداء۔ (ص:۶۵)
