غیرکفومیں نکاح کی صورت میں اولیاءکوطلبِ فسخ کا حق حاصل ہے

مسئلہ:

عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے نکاح میں کفائت (برابری) یا مہر کے مطلوبہ معیار کا لحاظ نہ کرے تو بچہ پیدا ہونے سے پہلے تک اولیاء کو قاضی کے ذریعے تفریق کا حق حاصل ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’فتاوی قاضیخان علی هامش الهندیة ‘‘: إذا زوجت المرأة نفسها من غیر کفء کان للأولیاء حق الفسخ ما لم تلد منه۔

(۳۵۱/۱ ، فصل في کفاء ة ، الفتاوی الهندیة :۲۹۳/۱، فصل في الأکفاء، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة :۱۱۶/۴)

ما في ’’ملتقی الأبحر مع مجمع الأنهر‘‘: نفذ نکاح حرة مکلفة بلا ولي وله الاعتراض في غیر الکفؤ، ۔۔۔۔۔ (وله) أي لکل من الأولیاء إذا لم یرض واحد منهم (الاعتراض) أي ولایة المرافعة إلی القاضي لیفسخ ۔ (۴۸۹/۱ ، باب الأولیاء والأکفاء)

وما في ’’ الدر المنتقی‘‘: (الاعتراض في غیر الکفؤ) بأن یطلب من الحاکم التفریق ما لم تلد منه لئلا یضیع الولد ۔

(۴۸۹/۱، باب الأولیاء والأکفاء ، العنایة شرح الهدایة مع فتح القدیر:۳۸۴/۳ ، فصل في الکفاء ة)

اوپر تک سکرول کریں۔