مسئلہ:
عورتوں کے غیر شرعی لباس – یعنی ایسے کپڑے جن میں ستر کھلا رہے، یا بدن کا نشیب وفراز دکھائی دے- تیار کرنا مکروہِ تحریمی وناجائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : أو خیاطًا أمره أن یتخذ له ثوبًا علی زيّ الفساق یکره له أن یفعل۔
(۵۶۲/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع ، البحر الرائق:۳۷۱/۸، کتاب الکراهیة، فصل في البیع، المحیط البرهاني:۹۶/۶، کتاب الاستحسان والکراهیة ، الفصل الرابع عشر في الکسب)
(فتاویٰ محمودیہ:۲۵/۲۶۹، فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۳۶۳۱۴)
