مسئلہ:
صدقہٴ فطر غیر مسلموں کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں ہمارے ائمہ کے مابین اختلاف ہے، طرفینؒ کے نزدیک دینا جائز ہے، اور امام ابویوسفؒ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
علامہ حصکفیؒ فرماتے ہیں کہ” فتوی امام ابویوسفؒ کے قول پر ہے“، جبکہ علامہ شامیؒ فرماتے ہیں کہ ” صاحب ہدایہ وغیرہ کے کلام سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ فتوی طرفین کے قول پر ہے، اور متون میں بھی ایسا ہی ہے “۔
علامہ شامیؒ کا قول ضوابط افتاء کے مطابق بھی ہے کہ” جب کسی مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے مابین اختلاف ہو، تو امام، یا امام اور آپ کے تلامذہ میں سے وہ جو آپ کے موافق ہو، کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے“، اس لیے فتویٰ طرفین کے قول پر ہی ہوگا، یعنی غیر مسلموں کو صدقہٴ فطر دینا جائز ہے(۱)، لیکن چوں کہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ مسلمانوں کو ہی کو دیا جائے، کیوں کہ مسلمانوں میں فقراء وغرباء کی کمی نہیں ہے، نیز صدقہٴ فطر کا مقصود غریب مسلمانوں کو اپنی خوشی میں شریک کرنا ہے، اور یہ مقصد اسی صورت میں پورا ہوگا، جبکہ ہم صدقہٴ فطر ان ہی کو دیں(۲)، رہے غیر مسلم تو سال بھر انہیں صدقاتِ نافلہ دینے کی گنجائش ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿لیس علیک هداهم ولکن الله یهدی من یشاء وما تنفقوا من خیر فلأنفسکم وما تنفقون إلا ابتغاء وجه الله، وما تنفقوا من خیر یوف إلیکم وأنتم لا تظلمون﴾ ۔ (سورة البقرة :۲۸۲)
ما فی ” التفسیر الکبیر“ :أنه ﷺ کان لا یتصدق علی المشرکین حتی نزلت هذه الآیة فتصدق علیهم۔۔۔۔۔۔۔ فتکون هذه الآیة مختصة بصدقة التطوع، وجوز أبوحنیفة صرف صدقة الفطر إلی أهل الذمة۔(۶۵/۳۔۶۷، سورة البقرة: ۲۸۲)
ما فی ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (ولا) تدفع (إلی ذمی) ۔۔۔۔۔۔ (وجاز) دفع (غیرها وغیر العشر)۔۔۔۔۔۔۔۔ (إلیه) أی الذمي ولو واجباً کنذر وکفارة وفطر، خلافاً للثانی۔ وبقوله یفتی ۔ حاوي القدسي ۔ (تنویر الأبصار مع الدر) وفي الشامي : قلت : لکن کلام الهدایة وغیرها: یفید ترجیح قولهما وعلیه المتون ۔
(۲۷۲/۳، کتاب الزکاة)
ما فی” شرح عقود رسم المفتی “ : وإن کانت المسئلة مختلفاً فیها بین أصحابنا، فإن کان مع أبی حنیفة أحد صاحبیه یأخذ بقولهما، أی بقول الإمام ومن وافقه، لوفور الشرائط واستجماع أدلة الصواب فیها۔(ص:۱۲۵)
ما فی ” شرح عقود رسم المفتی “ :؎
وکل قول فی المتون أثبتا
فذلک ترجیح له ضمنا أتی
قلت: حاصله أن أصحاب المتون التزموا وضع القول الصحیح ، فیکون ما فی غیرها مقابل الصحیح ما لم یصرح بتصحیحه، فیقدم علیها، لأنه تصحیح صریح فیقدم علی التصحیح الإلتزامی۔ (ص:۱۴۵۔۱۵۲)
(۲) ما فی ”فتاوی قاضی خان “ : ویجوز أن یعطی فقراء أهل الذمة وتکره ۔(۱۱۱/۱، کتاب الصوم)
ما فی” الفقه الإسلامی وأدلته “: وقال الحنفیة : صدقة الفطر کالزکاة فی المصارف وفی کل حال إلا فی جواز الدفع إلی الذمی مع الکراهة، وعدم سقوطها بهلاک المال، لکن الفتوی علی قول أبی یوسف وهو عدم جواز صرفها للذمی، کزکاة الأموال للحدیث المتقدم فی الزکاة۔ ” صدقة تؤخذ من أغنیاءهم وترد علی فقراءهم “۔
(۲۰۴۸/۳، المبحث الخامس، مصرفها أوالخ)
ما فی ” قواعد الفقه “ : الإحتیاط فی حقوق الله لا فی حقوق العباد۔(ص:۵۴)
(فتاوی محمودیه:۶۳۹/۹، کفایت المفتی:۳۱۶/۴، أحسن الفتاوی: ۳۸۳/۴)
