غیر مسلم نرس کا میت بچہ کو غسل اور کفن دینا

مسئلہ:

بسا اوقات کسی بچہ کی ولادت ہسپتال میں ہوتی ہے، اور وہ وہیں مرجاتا ہے، تو ہسپتال کی غیر مسلم نرسیں اسے غسل وکفن کردیتی ہیں، اوراس کے بعد اسے گھر پر غسل نہیں دیاجاتا، اور قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے، شرعاً ایسا کرنا درست ہے، کیوں کہ غیر مسلم کے ہاتھوں دیا گیا غسل صحیح ہے، غسل دینے والے کا مکلفِ شرع ہونا شرط نہیں ہے، مگر چونکہ اس صورت میں دو خرابیاں پائی جاتی ہیں، اول تو یہ کہ غیر مسلم کے ہاتھوں دیا گیا غسل خلافِ سنت ہوگا، ثانی یہ کہ مسلم جنازہ کی تجہیز وتکفین مسلمانوں پر لازم ہے، اوریہ ذمہ داری ان پرباقی رہ جاتی ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس بچہ کو دوبارہ موافقِ سنت غسل دیا جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “ : وأنه یسقط، وإن لم یکن الغاسل مکلفاً۔ (۸۸/۳، باب صلوٰة الجنازة)

ما فی ” عمدة القاری “ : الغسل والتکفین والصلوٰة فرض علی الکفایة بالإجماع علی أن غسل المیت فرض کفایة۔ (۵۲/۸، الجنائز)

ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : کفنه ودفنه تجهیزه فرض کفایة بالإجماع فیکفر منکرها لإنکاره الإجماع۔ (ص:۵۸۰، الجنائز)

(فتاوی رحیمیه: ۶/۷)

اوپر تک سکرول کریں۔