مسئلہ:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب کسی غیر مسلم کے مرنے کی خبر سنی جائے، یا اس کی نعش لے جاتے ہوئے دیکھے ، تو﴿في نار جہنّم خٰلدین فیہآ أبدًا﴾ پڑھنا چاہیے، جب کہ فقہ کی کتابوں میں اس طرح کی کوئی عبارت نہیں ملتی، ہاں! کسی بھی میت کی خبر ملے، یا کوئی بھی میت سامنے جاتے ہوئے دیکھے ، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، اس کو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، جس کے لیے بہتر الفاظ یہ ہیں:﴿إنا للہ وإنا إلیه راجعون﴾۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿الذین إذآ أصابتهم مصیبة قالوا إنا لله وإنا إلیه راجعون﴾۔ (سورة البقرة: ۱۵۶)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : یعني إقرارهم في تلک الحال بالعبودیة والملک له، وأنّ له أن یبتلیهم بما شاء تعریضاً منه لثواب الصبر واستصلاحاً لهم لما هو أعلم به، إذ هو تعالی غیر متهم في فعل الخیر والصلاح، إذ کانت أفعاله کلها حکمة، ففي إقرارهم بالعبودیة تفویض الأمر إلیه ورِضیً بقضائه فیما یبتلیهم به، إذ لایقضی إلا بالحق۔
(۱۱۴/۱)
(فتاویٰ محمودیه:۳۳/۱۳)
