مسئلہ:
اگر کوئی غیر نمازی کسی امام کو لقمہ دے، اور امام لقمہ نہ لے مگر کوئی مقتدی اس لقمہ کو لیکر امام کو دے، اور امام وہ لقمہ لے لے تو اس صورت میں بھی سب کی نماز فاسد ہوجاتی ہے، کیوں کہ مقتدی نے جب غیر نمازی کا لقمہ لیا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی، اور وہ نماز سے نکل گیا، اور جب امام نے اس کا لقمہ لیا، تو یہ مقتدی اس وقت نماز سے نکل چکا تھا، لہٰذا غیر نمازی کا لقمہ لینے کی وجہ سے امام اور تمام مقتدیوں کی بھی نماز فاسد ہوجائے گی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : إلا إذا سمعه المؤتم من غیر مصلّ ففتح به تفسد صلاة الکل ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: قوله: (إلا إذا سمعه المؤتم الخ) في البحر عن القنیة: ولو سمعه المؤتم ممن لیس في الصلاة ففتح به علی إمامه یجب أن تبطل صلاة الکل، لأن التلقین من خارج، وأقرّه في النهر ووجهه أن المؤتم لما تلقن من خارج بطلت صلاته، فإذا فتح علی إمامه وأخذ منه بطلت صلاته۔
(۳۲۹/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب المواضع التي لا یجب فیها ردّ السلام، النهر الفائق: ۲۶۹/۱، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، البحر الرائق: ۱۱/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)
