فریج(Refrigerator)کولر(Cooler)واشنگ مشین(Washing machine)قسطوں پر خریدنا!

(فتویٰ نمبر: ۶۴)

سوال:

آج کل یہ اسکیم(Scheme) نکلی ہے کہ کوئی چیز مثلاً گاڑی، شوکیس (Showcase)، فریج (Refrigerator) وغیرہ اُدھار ملتے ہیں، اور اس کی ادائیگی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے کچھ ہفتے مقرر ہوتے ہیں اور فی ہفتہ کچھ رقم مقرر ہوتی ہے جو دینا لازم ہوتی ہے، اس صورت میں اگر وہ چیز دس ہزار کی ہوں تو مشتری کو بارہ سے تیرہ ہزار روپے دینا پڑتے ہیں، تو کیا یہ بیع وشرا ربوا کے حکم میں ہوگی ؟اور اس کا بیچنا اور خریدنا جائز ہوگا یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

نقد ادا کرنے کے مقابلے اُدھار اور قسطوں کی سہولت کے ساتھ زیادہ قیمت مقرر و متعین کرنا شرعاً جائز ہے(۱)، البتہ ایک ہی قیمت متعین کرنا ضروری ہے، کسی قسط کے وقتِ متعین پر ادا نہ کرنے کی صورت میں مقررہ قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے، اگر اضافہ کیا جائے گا تو یہ بیع شرعاً درست نہیں ہوگی ،کیوں کہ یہ سود میں داخل ہے ، جو شرعاً ناجائز وحرام ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطه صحیح ، یلزم أن تکون المدة معلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط ۔

(۲۲۷/۱ ، ۲۲۸ ، رقم المادة : ۲۴۵ ، ۲۴۶)

ما في ” بحوث في قضایا فقهیة معاصرة “ : وأما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثین ، فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد ، بشرط أن یبتّ العاقدان بأنه بیع موٴجل بأجل معلوم وبثمن متفق علیه عند العقد ۔ (ص/۷ ، بحوث فقهیة من الهند : ص/۲۱۳ ، بیع التقسیط)

ما في ” الهدایة “ : ولأن للأجل شبها بالمبیع ، الا یری أنه یزاد في الثمن لأجل الأجل ۔ (۷۴/۳ ، کتاب البیوع ، باب المرابحة)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَ یُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا الرِّبٰوا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً﴾۔(سورة آل عمران : ۱۳۰)

ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : کان الرجل في الجاهلیة إذا کان له علی إنسان مائة درهم إلی أجل، فإذا جاء الأجل ولم یکن المدیون واجدًا لذلک المال ، قال : زد في المال حتی أزید في الأجل ، فربما جعله مأتین ۔ (۳۶۳/۹ ، ط : مکتبه علوم اسلامیه لاهور) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۲۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔