مسئلہ:
اگر فصل پک چکی اور اس کی کٹائی سے پہلے ہی اس کو فروخت کردیا گیا، تو اس کا عشر مالکِ زمین پر ہی واجب ہوگا، اور اگر فصل کی پختگی سے پہلے اسے فروخت کردیا گیا، اور فصل مشتری کی ملکیت میں کمال تک پہنچ جائے، تو عشر کی ادائیگی مشتری یعنی خریدار پر لازم ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامي“ : ولو باع الزرع إن قبل إدراکه فالعشر علی المشتری ولو بعده فعلی البائع ۔
(۲۵۰/۳، مطلب مهم فی حکم أراضی مصر، الفتاوی الهندیة :۱۸۷/۱، الباب السادس فی زکوة الزرع والثمار، بدائع الصنائع :۱۷۵/۲، کتاب الزکوة، فصل أما شرائط الفرضیة)
ما فی” المبسوط للسرخسي“ : إن باع الزرع وهو قصیل فإن قصله المشتری فی الحال فالعشر علی البائع ، وإن ترکه علی الأرض بإذن البائع حتی استحصد فالعشر علی المشتری۔
(۲۷۴/۲، باب العشر)
(فتاوی حقانیه:۵۷۸/۳، خیر الفتاوی :۴۴۲/۳، أحسن الفتاوی :۳۳۸/۴)
