مسئلہ:
فرضیتِ زکوٰة کا تعلق کسی خاص قوم مسلم سے نہیں، بلکہ جو شخص بھی صاحب نصاب ہوگا اس پر قاعدہ شرعی کے موافق زکوٰة فرض ہوجائے گی، خواہ وہ کسی قوم سے ہو، ہمارے معاشرے میں بعض لوگ فقیر قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور فقیری یعنی مانگنا ان کا آبائی پیشہ ہوتا ہے، وہ صاحب نصاب ہونے کے باوجود محض اس لئے زکوٰ ة نہیں دیتے کہ وہ فقیر قوم سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ فقیر مانگ مانگ کر اگر اتنی رقم اکٹھا کرلے کہ خود صاحب نصاب بن جائے، تو اس پر بھی زکوٰة واجب ہوگی،(۱) اور اب اس کیلئے مانگنا جائز نہیں ہوگا، اگر کوئی شخص اس کی حالت کو جاننے کے باوجود اس کو زکوٰة وغیرہ کی رقم دیتا ہے، تو وہ بھی گناہگار ہوگا، کیوں کہ اس نے فعل ممنوع وحرام پر تعاون کیا ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” البحر الرائق “ : وشرط وجوبها العقل والبلوغ والإسلام والحریة وملک نصاب حولي فارغ عن الدین وحاجته الأصلیة نام ولو تقدیراً۔
(۳۵۳/۲۔۳۵۵، کتاب الزکوٰة)
ما فی ” الدر المختار “ : وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحریة، وسببه أی سبب افتراضها ملک نصاب حولی۔ (۱۷۳/۳۔۱۷۴، کتاب الزکاة)
ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : الزکوٰة واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکاً تاماً۔ (۳/۲، کتاب الزکوٰة، الهدایة: ۱۸۵/۱، کتاب الزکوٰة)
(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا یحل أن یسأل شیئاً من القوت من له قوت یومه بالفعل أو بالقوة کالصحیح المکتسب ویأثم معطیه إن علم بحاله لإعانته علی المحرّم۔(۳۰۶/۳ ، تبیین الحقائق: ۴۶۹/۱، کتاب الزکوٰة، باب المصرف، المحیط البرهانی: ۲۱۹/۲، کتاب الزکوٰة، الفصل الثامن من یوضع فیه الزکوٰة)
(فتاوی محمودیه: ۲۵/۱۴)
