فینسی بلیوں کی خرید و فروخت کا حکم شرعی

مسئلہ:

آج کل بلیوں کی خرید وفروخت کا رَواج ہے، جن بلیوں کی خرید وفروخت کی جاتی ہے، وہ یہ عام بلی نہیں ہوتیں، جو محلے اور گلیوں میں پھرتی ہیں، بلکہ یہ فینسی بلی کہلاتی ہیں، اُن کی تقریباً ۲۵/ قسمیں ہیں، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں: پَرشِیَن بلی، ہمالین بلی اور ترکش انگورہ وغیرہ، یہ بلیاں دوسری بلیوں سے عادات میں بھی مختلف ہوتی ہیں، اور ہرچیز نہیں کھاتیں، بلکہ مخصوص چیزیں کھاتی ہیں، بلیوں کی خریدوفروخت بالاتفاق جائز ہے(۱)، اور جس حدیث میں اس کی خرید وفروخت سے ممانعت وارد ہے ، وہ کراہتِ تنزیہی پر محمول ہے(۲)، اس لیے اگر کسی شخص کا کاروبار ہی اس طرح کی بلیوں کی خرید وفروخت کا ہو اور اُن کی مالیت نصاب کے بقدر ہو، اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس کی زکوة نکالنا واجب ہوگا۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : فذهب جمهور الفقهاء من الحنفیة والمالکیة والشافعیة والحنابلة إلی أن بیع الهرّة جائزٌ۔ لأنها طاهرة ومُنتَفَعٌ بها ووُجد فیها جمیع شروط البیع فجاز بیعها کالحمار والبغل، ولأن کل مملوک أبیح الانتفاع به یجوز بیعه ۔ اه ۔ (۲۶۶/۴۲، بیع الهرّة)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما بیع کل ذي ناب من السباع سوی الخنزیر کالکلب والفهد والأسد والنمِر والذئب والهر ونحوها فجائز عند أصحابنا۔

(۱۴۲/۵، المکتبة العلمیة بیروت، المجموع شرح المهذب للنووي: ۲۲۹/۹-۲۳۰، ط: دار الفکر دمشق، المغني والشرح الکبیر لإبن قدامة: ۳۰۲/۴-۳۰۳، ط: دار الکتاب العربي، مواهب الجلیل شرح مختصر خلیل: ۲۶۷/۴-۲۶۸، ط: دار الفکر)

(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي الزبیر قال: سألت جابرًا عن ثمن الکلب والسنور؟ قال: ” زجر النبي ﷺ عن ذلک “۔

(رقم الحدیث:۳۹۹۱/1569، سنن أبي داود: رقم الحدیث: ۳۴۷۹، جامع الترمذي: رقم الحدیث: ۱۲۷۹)

ما في ” عون المعبود شرح سنن أبي داود “ : عن أبي سفیان عن جابر بن عبد الله: ” أن النبي ﷺ نهی عن ثمن الکلب والسنور “۔

(ص:۱۴۹۱، رقم الحدیث: ۳۴۷۹۔۳۴۸۰، کتاب البیوع، باب في ثمن السنور، جامع الترمذي: ۳۰۱/۲۔۳۰۲، رقم الحدیث: ۱۲۷۹۔۱۲۸۰، کتاب البیوع، ما جاء في کراهیة ثمن الکلب والسنور، بیروت)

ما في ” تکملة فتح الملهم “ : قوله: (والسنور) استدل به من قال بحرمة بیع السنور۔ وروي ذلک عن أبي هریرة وطاوس ومجاهد وجابر بن زید، وبه أخذ ابن حزم في المحلی (۹ : ۱۳) واتفق الأئمة الأربعة وجمهور من سواهم علی جواز بیعه، وحملوا النهي في حدیث الباب علی التنزیه، وهو أصح ما قیل فیه ۔۔۔۔۔ والصحیح ما ذکرنا من أن النهي محمول علی التنزیه لیعتاد الناس هبته وإعارته۔(۵۰۱/۷، کتبا المساقات، باب تحریم ثمن الکلب وحلوان الکاهن والنهي عن بیع السنور، ط: احیاء التراث العربي)

(۳) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : وأما البغال والحمیر وغیرها من أصناف الحیوان فلیس فیها زکاة ما لم تکن للتجارة۔

(۲۵۰/۲۳، الهدایة علی البدایة مع الفتح: ۵۰۴/۱، ط: الأمیریة بولاق)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وما اشتراه لها) أي للتجارة (کان لها) لمقارنة النیة لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فیه ۔ اه ۔

(۱۹۳/۳، کتاب الزکاة، مطلب في زکاة ثمن المبیع وفاء، بیروت)

(فتاویٰ بنوریہ ، رقم الفتویٰ : ۱۲۸۶۴)

اوپر تک سکرول کریں۔